• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 49980

    عنوان: ایسا شخص جو غیر اللہ سے مدد مانگنا جائز مانتا ہے ، انبیاء اور اولیاء کو دور سے پکارناجائز سمجھتا ہے ،

    سوال: ایسا شخص جو غیر اللہ سے مدد مانگنا جائز مانتا ہے ، انبیاء اور اولیاء کو دور سے پکارناجائز سمجھتا ہے ، ندائے یارسول اللہ اور یاعلی مدد کا قائل ہے ۔ اور یہ مانتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء دور سے بھی اس کی پکار سنتے ہیں اور مشکل وقت میں پکاریں تو مددکرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو نور بھی مانتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کو حاضر ناضر مانتا ہے ، ماکان و مایکون کا علم بھی نبی ﷺ کے لیے مانتا ہے ۔ محفل میلاد ، گیارہویں اور عرس وغیرہ کا بھی قائل ہے ۔ ان سب عقائد کوحق مانتا ہے اور ان مندرجہ بالا عقائد کو ثابت کرنے کے لیے بحث بھی کرتا ہے اور قران و حدیث سے جائز مانتا ہے۔ مندرجہ بالا عقا ئد رکھنے والے شخص کو گمراہ، بدعتی یا کافر کیا کہا جائے گا ؟؟ سمجھانے کے باوجود بھی مندرجہ بالا عقا ئد پر قائم رہے تو اس پر کیا حکم شرعی ہو گا ؟؟ اورایسے شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینااور دوستی وغیرہ جیسے تعلقات رکھنا کیسا ہے ؟؟

    جواب نمبر: 49980

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 193-160/H=2/1435-U ایسے شخص کے دائرہٴ اسلام سے نکل جانے کا سخت اندیشہ ہے اس کے ضال ہونے میں شبہ نہیں اس شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا اور دوستی کا تعلق رکھنا دین وایمان عقائد واعمال کے حق میں سم قاتل ہے، پس اس سے دور رہنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند