• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 43670

    عنوان: نظر بد سے بچنے كے لیے تعویذات كا استعمال

    سوال: سوال یہ ہے کہ لوگ بد نظر سے حفاظت کے لیے جو تعویذ اپنے گلے یا بازو میں پہنتے ہیں کیا اس کا پہننا صحیح ہے ؟یا اس کا پہننا شرک ہے؟کیا صحیح یا غلط کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے؟مہربانی کرکے تفصیل سے جواب دیں اور قرآن وحدیث میں اس کا کہاں ذکر ہے یہ بھی بتائیں۔

    جواب نمبر: 4367001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 291-234/B=3/1434 عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ یُسْتَرْقَی مِنَ العَیْنِ(بخاري ومسلم) وعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی فِی بَیْتِہَا جَارِیَةً فِی وَجْہِہَا سَفْعَةٌ، تعني الصفرة فقال اسْتَرْقُوا لَہَا، فَإِنَّ بِہَا النَّظْرَةَ․ (بحوالہ مشکاة المصابیح: ۳۸۸) ان حدیثوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر بد سے بچنے کے لیے جھاڑ پھونک کرنے کا حکم دیا ہے، جھاڑ پھونک تعویذ، گنڈا پر جو کچھ پڑھا جائے اس میں کفر وشرک کا کلمہ نہ ہونا چاہیے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرمایا ہے لا باس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک (رواہ مسلم)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند