• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 43371

    عنوان: کیا الله کے نبی زندہ ہے

    سوال: گذشتہ جمعہ کو ہمارے امام مسجد نے کہا تھا کہ جب حضرت ابو بکر صدق رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو انہو ں نے کہا کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر مبارک کے پاس رکھ دینا اور کہنا کہ حضور غلام آپ کے پاس دفن ہونا چاہتا ہے ، اگر اجازت مل گئی تو ٹھیک ہے اور اگر نہ ملی تو مجھے جنت البقی میں دفنا دینا چانچہ ایسا ہی کیا گیا قبر اطہر سے اجازت کی آواز ائی اور صحابہ نے حضرت صدق رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقع درست ہے اور کیا نبی اکرم روضہ پر جانے والے یا دوسرے لوگوں کی باتیں سنتے ہیں اور کیا یہ بات دوسرے انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بھی درست ہے؟

    جواب نمبر: 43371

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 214-64/L=2/1434 (۱) حضرت ابوبکر صدیق -رضی اللہ عنہ- کے بارے میں ایسی بات کسی صحیح، معتبر یا مستند روایت سے ثابت نہیں، البتہ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اس طرح کی ایک روایت سند کے ساتھ ذکر کی ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا ہے کہ: یہ روایت منکر ہے، اس میں ایک راوی ابوطاہر محمد بن موسی بن محمدبن عطاء بہت بڑا جھوٹا ہے، اورایک راوی عبد الجلل غیرمعروف ہے، اور حافظ ابن حجر نے اس کو باطل کہا ہے۔ لما حضرت أبا بکرٍ الوفاة أقعدنی عند رأسہ، وقال لی: یا علی، إذا أنا مت فغسلنی بالکف الذی غسلت بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وحنطونی، واذہبوا بی إلی البیت الذی فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فاستأذنوا، فإن رأیتم الباب قد تفتح فادخلوا بی، وإلا فردونی إلی مقابر المسلمین حتی یحکم اللہ بین عبادہ، قال: فغُسل وکفن، وکنت أول من بادر إلی الباب، فقلت: یا رسول اللہ، ہذا أبو بکر یستأذن، فرأیت الباب قد تفتح، فسمعت قائلاً یقول: أدخلوا الحبیب إلی حبیبہ، فإن الحبیب إلی الحبیب مشتاق. أخرجہ ابن عساکر في تاریخہ في ترجمة أبي بکر الصدیق رضی اللہ عنہ وقال ابن حجر في لسان المیزان في ترجمة عبد الجلیل المدني: عن حبة العرني وعنہ أبو طاہر المقدسي بخبر باطل أوردہ ابن عساکر، ونسب إلیہ بعد أن أورد الخبر أنہ قال: ہذا منکر وأبوطاہر ہو محمد بن موسی بن محمد بن عطاء المقدسي کذاب، وعبد الجلیل مجہول․ قلت: وکذا نسب إلیہ ولم أجد ذلک في النسخة التي عندنا إنما فیہا: ہذا منکر وروایة أبوطاہر․․ وعبد الجلیل مجہول․ ولعلہ سقط عنہا قولہ: کذاب، لأن أباطاہر قال فیہ ابنعدي: یسرق الحدیث․ وقال أبوزرعة: کان یکذب، وقال أبوحاتم الرازي: کان یکذب وبأتي بالأباطیل، وقال العقیلي: یحدث عن الثقات بالبواطیل والموضوعات، وقال ابن حبان: کان یضع علی الثقات․ کذا في العلل المتناہیة لابن الجوزي۔ (۲) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روضہٴ اقدس پر جانے والوں کی باتیں سنتے ہیں اور دوسرے امتی جو آپ کے روضے سے دو رہیں، ان کے اعمال کی خبر اور درود وسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا جاتا ہے۔ (۳) دوسرے سارے انبیاء -علیہم الصلاة والسلام- بھی اپنی اپنی قبروں میں زندہ وباحیات ہیں۔ عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الأنبیاء أحیاء في قبورہم یصلون“․ أخرجہ أبو یعلی في مسندہ: (۶/۱۴۷، ۳۴۲۵) وقال البیہقي في المجمع (۸/۲۱۱): ورجال أبي یعلی ثقات․ وذکرہ الألباني في سلسلة الأحادیث الصحیحة برقم (۶۲۱) وقال بعد أن بسط الکلام في تصحیحہ: وکأنہ لذلک قال المناوي في فیض القدیر: ”وہو حدیث صحیح“ ولکنہ لم یبین وجہہ وقد کفیناک موٴونتہ․ انتہی


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند