• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 43305

    عنوان: کیا یہ درست ہے کہ روزِ محشر ہر ایک کو اس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا؟براہ کرم، اس کے جواب کی شرعی نص بھی تحریر فرمادیں۔جزاک اللہ

    سوال: کیا یہ درست ہے کہ روزِ محشر ہر ایک کو اس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا؟براہ کرم، اس کے جواب کی شرعی نص بھی تحریر فرمادیں۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 43305

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 56-42/H=2/1434 فتاویٰ محمدیہ میں ہے: ”حشر میں ماں کی طرف منسوب کرکے پکارے جانے کے متعلق کوئی قوی حدیث میری نظر سے نہیں گذری البتہ بذل المجہود شرح ابی داوٴد: ۵/۲۶۷، میں نقل کیا ہے قد جاء في بعض الروایات أنہ یدعی الناس یوم القیامة بأسماء أمہاتہم فقیل الحکمة فیہ ستر حال أولاد الزنا لئلا یفتضحوا وقیل ذلک لرعایة حال عیسی ابن مریم علیہما السلام وقیل غیر ذلک فإن ثبتت ہذہ الروایة حمل الآباء علی التغلیب کما في الأبوین أو یحمل إنہم یدعون تارةً بالآباء وأخری بالأمہات والبعض بالآباء والبعض بالأمہات اھ“․ ===================== ماوٴں کے نام سے پکارے جانے کے متعلق صرف دو روایات ہیں، ایک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی، اسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ضعیف جدا قرار دیا ہے اور دوسری حضرت انس رضی اللہ عنہ کی، اسے حافظ رحمہ اللہ نے منکر قرار دیا ہے اور آبا کے نام سے پکارے جانے کی روایات صحیح ہیں اور علماء نے ان لوگوں کی تردید بھی کی ہے جو ماوٴں کے نام سے پکارے جانے کے قائل ہیں، دیکھئے فتح الباری (۱۰/ ۶۹۱ اور تفسیر قرطبی: ۱۳/۱۳۱) اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ قیامت کے دن سب لوگ آبا کے ناموں سے پکارے جائیں گے۔ (ن)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند