• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 43276

    عنوان: پتھر پہننے کے لئے زائچہ نکلوانا كیسا ہے؟

    سوال: میرا سوال ہے کہ پتھر اپنے نام کا زائِچہ نکلوا کر پہننا چاہیے یہ کوئی بھی پتھر پہن سکتے ہیں؟اس بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کر دیں.جزاک اللہ .

    جواب نمبر: 43276

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 113-105/N=2/1434 زائچہ کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی پنڈت یا جیوتشی وغیرہ کو اپنا نام بتاکر اس سے معلوم کیا جائے کہ میرے نام کے لحاظ سے میرے لیے کونسا پتھر ہے؟ پس اگر زائچہ سے آپ کی مراد یہی ہے تو آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ کسی پنڈت وغیرہ بلکہ غیر اللہ میں سے کسی سے بھی زمانہٴ آئندہ کے متعلق کوئی خیر یا شر کی بات معلوم کرنا مذہب اسلام میں سخت ناجائز وحرام ہے، احادیث میں اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں کیونکہ آئندہ کی باتیں یقین کے ساتھ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اس لیے اپنے نام کا زائچہ نکلوانا ہرگز جائز نہیں، اس کے بغیر وزن میں ۴/ گرام ۳۷۴/ ملی گرام کے برابر یا اس سے کم مقدار چاندی کی انگوٹھی کے نگ میں کوئی بھی پتھر رکھ سکتے ہیں، جائز ہے۔ انگوٹھی کا حلقہ پتھر کا ہو یا مستقل پتھر پہنا جائے، شرعاً اس کی اجازت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند