• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 42714

    عنوان: قیامت

    سوال: آدمی کو قیامت میں ماں کے نام سے یا باب کے نام سے پکارا جا ئے گا؟ ہم نے یہاں کے مدرسے معلوم کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ماں کے نام سے ، استاد مفتی زرولی صاحب کہتے ہیں کہ باب کے نام سے، اسکی تفصیل کے لیے کوئی کتاب آپ کی ویب سائٹ پر یا کوئی کتاب ہو توبتائیں، مہربانی ہوگی۔

    جواب نمبر: 42714

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 36-38/B=1/1434 قیامت کے دن آدمی کو اس کے باپ کی ولدیت کے ساتھ پکارا جائے گا۔ جو لوگ ماں کی ولدیت کے ساتھ پکارے جانے کو کہتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب باندھا ہے: ”باب ما یُدعی الناس بآبائہم“ اس باب کے تحت حدیث یہ درج فرمائی ہے: ”عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال إن الغادر یُرفع لہ لواءٌ یوم القیامة یقال ہذہ غدرة فلان بن فلان“ اس حدیث سے امام بخاری نے استدلال کیا ہے کہ باپ کے نام سے ہی پکارا جائیگا، اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے علامہ ابن بطال کا قول نقل فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماں کے نام سے آدمی کو قیامت کے دن پکارا جائے گا، وہ قول مردود ہے، صحیح نہیں ہے۔ وقال ابن بطال ہذا الحدیث ردٌ لقول من زعم أنہم لا یُدعَون یوم القیامة إلا بأمہاتہم سترًا علی آبائہم“ (فتح الباري: ۱۰/۴۶۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند