عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد
سوال نمبر: 41802
جواب نمبر: 41802
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1627-596/L=12/1433 ان آیات واحادیث کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تبارک وتعالی نے انسان کو مکلف بنایا اس کے لیے قانون نازل فرمایا اور ایک گونہ اس کو اچھے برے عمل کا اختیار دیا اور ہرعمل کی جزا وسزا بھی بتادی کہ اچھے عمل کرنے سے آدمی جنتی ہوگا اور برے عمل سے جہنمی ہوگا چوں کہ انسان کو معلوم نہیں کہ وہ کس طبقہ میں ہے لہٰذا اس کو اپنی قدرت وتوانائی اچھے کاموں میں صرف کرنا چاہیے اور یہی امید رکھنی چاہیے کہ وہ اچھے اور نیک لوگوں میں ہوگا تقدیر کا سہارا لے کر اور اس پر صابر رہ کر عملی جد وجہد سے کنارہ کشی اختیار کرنا یقینا گمراہی ہے۔ نوٹ: تقدیر کا مسئلہ بڑا نازک ہے حدیث کے اندر اس میں الجھنے کی ممانعت آئی ہے۔ لہٰذا آپ نیک عمل کریں اس میں زیادہ دلچسپی نہ لیں، آدمی دنیاوی امور میں کبھی بھی تقدیر کا سہارا لے کر اس کو ترک نہیں کرتا، جنت یا جہنم میں دخول اعمال کے سبب سے تو ہوگا لیکن محض اعمالِ صالحہ دخول جنت کا سبب نہیں جب تک کہ فضل الٰہی نہ ہو ( وَأَمَّا قَوْلہ تَعَالَی: ( اُدْخُلُوا الْجَنَّة بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ وَتِلْک الْجَنَّة الَّتِی أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ․ الآیة)․ وَنَحْوہمَا مِنْ الْآیَات الدَّالَّة عَلَی أَنَّ الْأَعْمَال یُدْخَل بِہَا الْجَنَّة ، فَلَا یُعَارِض ہَذِہِ الْأَحَادِیث ، بَلْ مَعْنَی الْآیَات : أَنَّ دُخُول الْجَنَّة بِسَبَبِ الْأَعْمَال ، ثُمَّ التَّوْفِیق لِلْأَعْمَالِ وَالْہِدَایَة لِلْإِخْلَاصِ فِیہَا ، وَقَبُولہَا بِرَحْمَةِ اللَّہ تَعَالَی وَفَضْلہ ، فَیَصِحّ أَنَّہُ لَمْ یَدْخُل بِمُجَرَّدِ الْعَمَل․ (شرح نووي علی مسلم: ۲/۳۷۷)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند