• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 41578

    عنوان: علم کلام

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان سوالات کے متعلق؟ سوال1-اگر انسان اعتقادات میں مستحکم ہونا چاھتا ہو ، تو اسے کیا کرنا چاھئے؟ سوال 2-علمائیدیوبند علم کلام کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ سوال 3- علم کلام کی تعریف، موضوع ، غرض وغایت؟ سوال 4-کیاعلم کلام کے موضوع پرعلمائے دیوبند کی کتابیں پڑھنا نقصان کا باعث ہے؟ سوال 5-اگرکوئی علم کلام کا مطالعہ کرنا چاہے تو اردو زبان میں علمائے دیوبند کی کونسی کتابیں مطالعہ کریں؟ سوال 6- کیا درجہ ثالثہ یا کالج کا طالبعلم علم کلام کامطالعہ کرسکتا ہے نیزانکے شرائط کیاہیں؟ سوال 7- کیاعلامہ بنوری رحمتہ اللہ علیہ نے کبھی علم کلام سیکھنے یا پڑھنے والوں کی مذمت کی ہے؟ سوال 8-بعض لوگوں کا کہناہیں کہ علم کلام کی ماہرین مثلا امام رازی و امام غزالی رحمہ اللہ وغیرہ نیآخرعمرمیں علم کلام سیکھنے پرافسوس کا اظہارکیاہیکہ ہم اپنی عمرعلم کلام پر لگا کرضائع کی ہے؟ برائے مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 41578

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 92-63/D=2/1434 دین پر مضبوطی سے عمل، اہل حق بزرگوں کی صحبت، صحابہٴ کرام اور سلف صالحین کے حالات کا مطالعہ نیز معتبر علمائے کرام کی بنیادی عقائد پر مشتمل کتابوں کا کسی عالم جید کی نگرانی میں پڑھنا، آدمی کے لیے بہت مفید ہے اس سے اس کے عقائد پختہ ہوں گے۔ (۲) علمائے دیوبند علمِ کلام کو پڑھتے پڑھاتے ہیں اور مفید سمجھتے ہیں۔ (۳) اسلامی عقائد اور اس سے متعلق مباحث اور دلائل کو جاننے کا نام علم کلام ہے، اس علم میں باری تعالیٰ کے وجود ، اللہ کی صفات، انبیائے کرام کی بعثت، معجزہ اور کرامت وغیرہ امور سے عقلی ونقلی دلائل کی روشنی میں بحث کی جاتی ہے اس علم سے آدمی کے عقائد پختہ ہوتے ہیں، اسلامی عقائد کو غیر اسلامی اور کفریہ عقائد سے ممتاز کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے (خلاصہ مسامرہ: ۰۱-۱۱، وامداد الاحکام: ۱) (۴) اہل حق معتبر علمائے کرام کی نگرانی میں پڑھنا نقصان کا باعث نہیں بنے گا، ان شاء اللہ ! (۵، ۶) علم کلام ایک دقیق علم ہے اس میں دلائل نقلیہ اور عقلیہ سے بحث کی جاتی ہے، جس کے سمجھنے کے لیے متعلقہ علوم سے واقفیت نیز ماہر استاذ کی ضرورت پڑتی ہے؛ اس لیے کالج کے طلبہ یا ابتدائی طلبہ کو اپنے اساتذہ اور معتبر علماء کے مشورے سے ہی علم کلام کی معتبر کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے ورنہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے، ہاں بنیادی عقائد کی کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ بہشتی ثمر، خلفائے راشدین کے شروع میں اسلامی بنیادی عقائد کا ذکر ہے، نیز تعلیم الدین موٴلفہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ بھی اس موضوع پر مفید اور اہم کتاب ہے۔ (۷، ۸) ہمیں ان باتوں سے متعلق جانکاری نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند