• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 41565

    عنوان: جان بوجھ كر روزہ توڑنے كے متعلق

    سوال: (۱) جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے کا کفارہ کیا ہے؟(۲) آپ کے جواب کی شرعی دلیل درکار ہے کہ یہ جواب قرآن یا حدیث کی کس نص سے ثابت ہے؟

    جواب نمبر: 41565

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 889-888/N=10/1433 (۱) اور (۲) بلا عذر شرعی جان بوجھ کر رمضان شریف کا روزہ نہ رکھنا نہایت سخت گناہ کبیرہ ہے، پوری ندگی کے روزے بھی اس کا بدل نہیں بن سکتے ہیں، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من أفطر یوما من رمضان من غیر رخصة ولا مرض لم یقض عنہ صوم الدہر کلہ وإن صامہ رواہ أحمد والترمذي وأبوداوٴد وابن ماجة والدارمي والبخاري فی ترجمة باب (مشکاة شریف کتاب الصوم باب تنزیہ الصوم الفصل الثاني، ص:۱۷۷)۔ ہاں اگر آدمی قضا کے ساتھ صدق دل سے توبہ واستغفارکرے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ جرم کو معاف فرمادیں قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ رواہ ابن ماجة والبہیقي في شعب الإیمان․ (مشکاة شریف، ص:۲۰۶)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند