• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 40614

    عنوان: كیا میت كے تكلیف محسوس كرتا ہے؟

    سوال: کیا جب انسان مر جاتا ہے تو اسکے اندر تکلیف محسوس کرنے کی صلاحیت رہ جاتی ہے؟جب میّت کو غسل دیتے ہیں تو کیا اسکو تکلیف محسوس ہوتی ہے؟ہم میّت کے بارے میں کچھ کہتے ہیں تو کیا وہ اسکو سنتی ہے؟

    جواب نمبر: 40614

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 849-863/N=10/1433 (۱) جی ہاں! مرنے کے بعد بھی انسان میں احساس تکلیف کی صلاحیت رہتی ہے، قال في مشکاة المصابیح (کتاب الجنائز باب دفن المیت، ص: ۱۴۹): عن عائشة أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: کسر عظیم المیت ککسرہ حیا رواہ مالک وأبوداوٴد وابن ماجہ․․․ وعن عمرو بن حزم قال: رآني النبي صلی اللہ علیہ وسلم متکئا علی قبر فقال: لا توٴذ صاحب القبر أو لاتوٴذہ رواہ أحمد اھ․ وقال في مرقاة المفاتیح (۴/۷۹، ط: مکتبة إمدادیة ملتان باکستان): ”کسر عظم المیت ککسرہ حیا“ یعني: في الإثم کما في روایة، قال الطیبي: إشارة إلی أنہ لا یمتہان میتا کما لا یمتہان حیا قال ابن الملک: وإلی أن المیت یتألم، قال ابن حجر: ومن لازمہ أنہ یستلذ بما یستلذہ بہ الحي اھ وقد أخرج ابن أبي شیبة عن ابن مسعود قال: أذی الموٴمن في موتہ کأذاہ في حیاتہ اھ وفي ص:۹۷ منہ:․․․ فلا شک أن أرواح الأموات تألم من الموٴذیات وتفرح من اللذات في البرزخ کما کانت في الدنیا․․ اھ․ (۲) جی ہاں! اگر اسے تکلیف دہ طریقہ پر غسل دیں گے تو اسے تکلیف ہوگی۔ (۳) اس مسئلہ میں دور صحابہ سے اختلاف ہے؛ بعض حضرات اس کے قائل ہیں کہ میت سنتی ہے اور بعض اس کے قائل ہیں کہ میت نہیں سنتی، اور دونوں طرف دائل ہیں، اس لیے اس میں سکوت اختیار کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند