• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 40223

    عنوان: فضائل صدقات سے ایک سوال؟

    سوال: فضائل صدقات، حصہ دوم، صفحہ ۵۵۸، فیضی مکتبہ، لاہور میں مولانا لکھتے ہیں کہ: "یا اللہ معاف فرمانا کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے کہ جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں، تیرا ہی ظل ہے تیرا ہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں اور جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہیں."ظاہری طور پہ یہ الفاظ صاف کفرو شرک ہیں، ان ارشاد ات کی وضاحت فرمائیں اور انکا مطلب بتائیں، اور اگر یہ غلط ہیں تو ابھی تک انہیں ہٹایا کیوں نہیں گیا؟

    جواب نمبر: 40223

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2272-483/B=1/1434 یہ وحدة الوجود کا مسئلہ ہے، یہ بہت باریک مسئلہ ہے، لیکن ان باریکیوں سے ہٹ کر اس کا آسان اور صحیح مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں حقیقی اور مکمل وجود صرف اللہ کا ہے، اس کے سوا ہرچیز کا وجود بے حقیقت، فنا ہونے والا اور نامکمل ہے کیونکہ ہرچیز ایک دن فنا ہوجائے گی، نیز ہرچیز اپنے وجود میں اللہ کی محتاج ہے لہٰذا جس قدر چیزیں اس کائنات میں نظر آتی ہیں، اگرچہ انھیں وجود حاصل ہے لیکن اللہ کے وجود کے سامنے اس وجود کی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے وہ کالعدم ہیں، اس کو یوں سمجھئے کہ آسمانوں پر سورج کے ہوتے ہوئے ستارے نظر نہیں آتے جب کہ ستارے بھی آسمان پر موجود ہیں لیکن سورج کا وجود ان ستاروں پر اس طرح غالب ہے کہ ان کا وجود نظر نہیں آتا۔ اسی طرح جب اللہ کا کوئی ولی اور نیک بندہ اس کائنات میں اللہ کے وجود کی معرفت حاصل کرلیتا ہے تو تمام چیزوں کا وجود اسے ہیچ اور کالعدم نظر آتا ہے، اسی مفہوم کو فضائل صدقات میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے وجود کے ساتھ چیزوں کا بھی وجود اور ہمارا بھی وجود ہے، اسی کو ”وہ جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو شرک در شرک“ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔یہ کفر وشرک نہیں ہے اللہ کی معرفت جس کو کما حقہ حاصل ہوجاتی ہے اس کا یہی حال ہوتا ہے، ہم جیسے نکمے دنیا دار، ایسے اونچے اور باریک مسئلہ کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے، اس لیے اپنے مبلغ علم سے اونچی بات دریافت کرنا بھی نہ چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند