• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 39458

    عنوان: غیر اللہ سے مدد مانگنا كیسا ہے؟

    سوال: (۱) غیر اللہ سے مدد مانگنا (یا علی مدد ،یا غوث ال مدد) شرک ہے؟ (۲) اور درگاہ پر جانا عروس ماننا کیا یہ شرک یا بدعت ہے؟ برائے مہربانی جواب دیجئے قرآن اور حدیث کی روشنی میں دلیل اور ثبوت کے ساتھ۔ امید ہے کہ آپ لوگ جو حق ہے ووہی بیان کرینگے۔

    جواب نمبر: 39458

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 850-864/N=10/1433 (۱) غیر اللہ سے مدد مانگنا یعنی ان کو مدد کے لیے پکارنا جیسے یا علی! المدد اور یا غوث! المدد وغیرہ شرک ہے۔ قال اللہ تعالی: وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِنَ الظَّالِمِیْنَ․ (سورہٴ یونس آیت: ۱۰۶)، لَہُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ (سورہٴ رعد آیت: ۱۴) (۲) درگاہ پر جاکر عرس منانا دلائل شرع کی روشنی میں ناجائز وبدعت ہے (تفصیل کے لیے فتاویٰ محمودیہ جدید ڈابھیل: ۳/۲۲۴-۲۴۴ ملاحظہ کریں) اور اگر وہاں کوئی شرکیہ کام کیا جائے گا تو وہ کام شرک ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند