• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 39291

    عنوان: جو شخص ابلیس لعین کو رسول مقبول علیہ الصلاة والسلام سے أعلم وأوسع علمًا کہے وہ کافر ہے

    سوال: حضور کو علم زیادہ تھا یا شیطان کو؟قرآن حدیث کی روشنی میں خلاصہ فرمائِیں ۔ کیا علمائے دیوبند کا یہ عقیدہ ہے ؟میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے ، تب سے کافی الجھن میں ہوں، ایک بٹالوی حضرت نے یہ کتاب دی تھی۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔

    جواب نمبر: 39291

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 992-599/L=8/1433 حضرت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے علوم کی وہ شان ہے کہ سید الاولین والآخرین امام الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہوسلم کو کائنات جل شانہ نے نبوت کے لائق اپنی ذات وصفات اور امور اخروی سے متعلق اتنے علوم عطا فرمائے کہ دیگر تمام انبیاء و ملائکہ اور تمام جن وبشر کے علوم کی حیثیت ان کے سامنے ایسی ہے جیسے بحر ناپیدا کنار کے سامنے ایک قطرہ کی ہوتی ہے اور یہ حق تعالی کے عطا فرمانے سے ہے، اور شیطان ملعون کی کیا حیثیت ہے کہ اس کے علم کو زیادہ کہا جائے، حضرات اکابر دیوبند رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ وإن سیدنا وشفیعنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم أعلم الخلق وأفضلہم جمیعا فمن سوی بین علمہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلم الصبي والمجنون أو علم أحد من الخلائق أو تفوہ بأن إبلیس اللعین أعلم منہ صلی اللہ علیہ وسلم فہو کافر ملعون لعنة اللہ علیہ (امداد الفتاوی: ۶/۳۲۷) حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس اللہ سرہ العزیز نے متعدد فتاوی میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ جو شخص ابلیس لعین کو رسول مقبول علیہ الصلاة والسلام سے أعلم وأوسع علمًا کہے وہ کافر ہے۔ (فتاوی شیخ الاسلام: ۱۷۹)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند