عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد
سوال نمبر: 38902
جواب نمبر: 38902
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1010-835/B=6/1433 سورہء عبس جو تیسویں پارہ کی ایک سورہ ہے اس کا شانِ نزول کچھ اسی طرح ہے جو آپ نے تحریر فرمایا یعنی ایک بار روٴسائے قریش ؛ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، شیبہ، چوٹی کے سردارانِ قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ سمجھا رہے تھے اسی اثناء میں ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم -رضی اللہ عنہ - آگئے اور آتے ہی کچھ سوال کیا، وہ نابینا تھے انھیں پتہ نہیں کہ کون لوگ بیٹھے ہیں اور کیا بات چل رہی ہے، انھوں نے گفتگو کے درمیان خلل ڈالدیا جس کی وجہ سے آپ کو ناگواری ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نابینا صحابی کی طرف اور ان کی بات کی طرف توجہ نہ فرمائی، یہ آپ کی اجتہادی لغزش تھی، جس کو آپ نے غلطی کے ساتھ تعبیر فرمائی ہے۔ بڑے لوگوں کے ساتھ گفتگو کے درمیان خلل ڈالنے اور قطع کلام کرنے سے آپ کو جو ناگواری ہوئی، اللہ نے یہ سورہ نازل فرماکر آپ کو تنبیہ فرمادی، یہ کوئی اللہ کی نافرمانی اور معصیت کا کام نہ تھا جس کو آپ نے غلطی لکھا ہے۔ نبی معصوم ہوتا ہے اس سے کوئی معصیت اور اللہ کی نافرمانی والی غلطی نہیں ہوسکتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند