• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 38011

    عنوان: علم غیب سے کیا مراد ہے؟وسیلے سے کیا مراد ہے؟

    سوال: کیا علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؟علم غیب سے کیا مراد ہے؟وسیلے سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ شرک ہے؟ براہِ کرم تفصیل سے جواب دیں۔

    جواب نمبر: 3801101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 685-685/M=5/1433 غیب وہ ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہو، جیسے جنت اور دوزخ کے حالات اور جو کچھ قرآن میں بیان کیا گیا ہے، چناں چہ حافظ عماد الدین اسماعیل بن کثیر، سدّی مفسر کے حوالے سے ابن عباس، ابن مسعود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہٴ کرام کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ”أما الغیب: فما غاب عن العباد من أمر الجنة وأمر النار وما ذکر في القرآن“ (تفسیر ابن کثیر: ۱/۴۰) علم غیب عطا ہوکر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؛ اس لیے کہ وحی اور الہام کے ذریعے، جن امور غیبیہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مطلع فرمایا ہے اور انبیائے کرام کے بتلانے سے ہم ان کو جانتے ہیں وہ سب چیزیں ہم سے پوشیدہ ہیں؛ حواس ظاہرہ سے ہم ان کا ادراک کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے؛ اس لیے ان کو غیب کہنا درست ہے۔ قرآن پاک میں بھی ایسی چیزوں کو غیب کہا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے: ”الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ“ (محاضرہ: ۳/۳) حضور صلی اللہ علیہ وسلم، دیگر انبیائے کرام، حضرات صحابہ اور مقبولانِ الٰہی کے طفیل اور وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ: اے اللہ! اپنے ان نیک اور مقبول بندوں کے طفیل میری یہ دعا قبول فرما، میری فلاں مراد پوری فرما، مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ توسل کے بغیر دعا کی جائے تو اللہ اس کو سنتے ہی نہیں، یا انبیاء اور اولیاء کے واسطے سے جو دعا رک جائے اس کا ماننا اللہ پر لازم ہے؛ بلکہ یہ عقیدہ ہو کہ ان مقبولانِ الٰہی کے طفیل سے جو دعا کی جائے، اس کی قبولیت کی زیادہ امید ہے۔ (اختلافِ امت صراطِ مستقیم: ۴۵، ۴۷)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند