• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 36665

    عنوان: تقدیر كے سلسلے میں

    سوال: اللہ تعالی نے انسان کی تقدیر اس کی پیدائش سے بہت پہلے لکھ دی ہے ، وہی ہوگا جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان کچھ گناہ کرتاہے جیسے کسی کا قتل کردیا ، زنا کردیا یا نماز چھوڑ دی ، کیا یہ اس کی تقدیر میں طے تھا کہ یہ کام کرے گا؟اگر کوئی آدمی دکان صرف دو یا چار گھنٹے کھولے پھر بند کردے تو کیا اس کو اتنا ہی ملاجتنا پورا دن دکان کھولنے پر ملتا ؟ کیوں کہ روزی تو طے، اس لیے کیا کرنا چاہئے؟براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب دیں۔

    جواب نمبر: 36665

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 303=168-3/1433 تقدیر میں طے ہونے کی وجہ سے انسان کا اختیار سلب نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی تقدیر میں ہی طے ہے کہ جو کچھ کرے گا، اپنے اختیار سے کرے گا اور اسی اختیار سے کرنے کی وجہ سے جزاء وسزاء کا ترتب ہوگا، اسی وجہ سے مناسب تدبیر اور احکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کا انسان مکلف ہے، بس عافیت اسی میں ہے نیز مستقیم اور سیدھا راستہ یہی ہے کہ تقدیر میں غور وخوض کرنے کے بجائے اللہ ورسول کے احکام کو پورا پورا ادا کرتا رہے، گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا رہے، بس یہی کرنا چاہیے، شریعت مطہرہ میں یہی مطلوب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند