• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 32667

    عنوان: کیا نمسکار کہنا شرک ہے؟کیا ہم آفس میں اور فون پر غیر مسلموں کو نمسکار کہہ سکتے ہیں؟

    سوال: کیا نمسکار کہنا شرک ہے؟کیا ہم آفس میں اور فون پر غیر مسلموں کو نمسکار کہہ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 32667

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 964=805-7/1432 ”نمسکار“ سنسکرت زبان کا لفظ ہے، اس کے اندر عبادت وبندگی کا معنیٰ پایا جاتا ہے، اس لیے اس کا استعمال کسی انسان کی تعظیم کے لیے کرنا، معنوی طور پر اسلام کے عقیدہٴ توحید کے خلاف ہے؛ اس لیے مسلمان ہرگز اسے استعمال نہ کرے؛ البتہ غیرمسلموں کے ساتھ آفس یا فون پر ملاقات کے دوران ”آداب عرض“ ، ”السلام علی من اتبع الہدی“ یا کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے جو غیروں کا مذہبی شعار نہ ہو اور نہ ہی اس کے اندر شرکیہمعنی پائے جاتے ہوں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند