• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 31790

    عنوان: کیا علی مولا کہنا ٹھیک ہے،

    سوال: میں آپ سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا علی مولا کہنا ٹھیک ہے، میرے بریلوی اور شیعہ دوست ہروقت اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تم لوگ علی مولا نہیں مانتے، اوروہ اس کی دلیل دیتے ہیں کہ ترمذی شریف میں علی مولا کی حدیث موجود ہے۔ آپ رہنمائی کیجئے کہ کیا واقعی یہ حدیث موجود ہے؟ کیا یہ صحیح حدیث ہے؟ اگر ہے تو مجھے بتائیں کہ دیوبندی اس نظریے کو کیوں نہیں مانتے اور کیوں علی مولا نہیں کہتے؟

    جواب نمبر: 3179001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 962=962-6/1432 ترمذی شریف میں علی مولاہ والی حدیث موجود ہے، الفاظ حدیث اس طرح ہیں: عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: من کنتُ مولاہ فعليٌّ مولاہ (ترمذي: ۲/۲۱۲) حدیث معتبر ہے، دیوبندی حضرات بھی اس کو مانتے ہیں، البتہ شیعہ لوگ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلافصل ہونے پر غلط استدلال کرتے ہیں، اس غلط اور باطل نظریے کو دیوبندی حضرات نہیں مانتے کیوں کہ یہ نظریہ اجماع کے خلاف ہے۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ حدیث میں مولیٰ، مددگار اور محبوب کے معنی میں ہے، دیوبندی حضرات اسی صحیح نظریے پر قائم ہیں جس کی تائید نصوص کے اشارات، صحابہٴ کرام کے قول وعمل سے ہوتی ہے، شیعہ لوگوں کو اپنے باطل نظریے سے توبہ کرنی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند