• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 2712

    عنوان:

    میں نے آپ سے پہلے بھی کچھ سوال کیاتھا تو آپ نے کہاتھا کہ کتابوں کے نام لکھو توآپ کی خدمت میں کتابوں کے نام بھی حاضر ہیں اور جملے بھی: (۱) غیب کی باتوں کا علم جیسے رسول کو ہے ویسے ہی زید و عمر، بچوں، پاگلوں کو بلکہ جانوروں کو حاصل ہے۔ رسول کی تخصیص نہیں ہے (نعوذ باللہ) (مولانا اشرف علی تھانوی، حفظ الایمان ص۸، مطبو عہ کتب خانہ اشرفیہ کمپنی دیوبند، اور کتب خانہ اعزازیہ دیوبند) (۲) حضور پاک کو آخری نبی سمجھنا عوام کا خیال ہے ، اہل علم کا نہیں (تحذیر الناس، ص ۳، مولانا قاسم نانوتوی، مطبو عہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند) (۳) حضور پاک کے بعد کوئی نبی پیداہوجائے تو خاتمیت محمد ی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ (تحذیر الناس، ص ۲۵) (۴) شیطان اور ملک الموت کو تمام روئے زمین کا علم ہے اور حضور پاک کے علم سے زیادہ ہے ۔ ( براہین قاطعہ ، ص ۵۵، مولوی خلیل امبیٹھوی ، مطبوعہ کتب خانہ امدایہ دیوبند) یہ کچھ حوالے آپ کی خدمت میں ہیں ۔ کیا یہ سب باتیں جو ان کی کتابوں میں ہیں صحیح ہیں؟ اگر ہیں تو پھر میرے خیال میں ان کے لکھنے والے اسلام سے خارج ہیں ۔ اور اگر آپان سب باتوں کو غلط ہیں تو پھر ان کی تقلید کیوں کرتے ہیں ؟ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں ان کتابوں میں نہیں ہیں تو پھر یہ سب کتابیں تخریج شدہ ہیں ، اصل کتابوں میں موجود ہیں۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

    سوال:

    میں نے آپ سے پہلے بھی کچھ سوال کیاتھا تو آپ نے کہاتھا کہ کتابوں کے نام لکھو توآپ کی خدمت میں کتابوں کے نام بھی حاضر ہیں اور جملے بھی: (۱) غیب کی باتوں کا علم جیسے رسول کو ہے ویسے ہی زید و عمر، بچوں، پاگلوں کو بلکہ جانوروں کو حاصل ہے۔ رسول کی تخصیص نہیں ہے (نعوذ باللہ) (مولانا اشرف علی تھانوی، حفظ الایمان ص۸، مطبو عہ کتب خانہ اشرفیہ کمپنی دیوبند، اور کتب خانہ اعزازیہ دیوبند) (۲) حضور پاک کو آخری نبی سمجھنا عوام کا خیال ہے ، اہل علم کا نہیں (تحذیر الناس، ص ۳، مولانا قاسم نانوتوی، مطبو عہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند) (۳) حضور پاک کے بعد کوئی نبی پیداہوجائے تو خاتمیت محمد ی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ (تحذیر الناس، ص ۲۵) (۴) شیطان اور ملک الموت کو تمام روئے زمین کا علم ہے اور حضور پاک کے علم سے زیادہ ہے ۔ ( براہین قاطعہ ، ص ۵۵، مولوی خلیل امبیٹھوی ، مطبوعہ کتب خانہ امدایہ دیوبند) یہ کچھ حوالے آپ کی خدمت میں ہیں ۔ کیا یہ سب باتیں جو ان کی کتابوں میں ہیں صحیح ہیں؟ اگر ہیں تو پھر میرے خیال میں ان کے لکھنے والے اسلام سے خارج ہیں ۔ اور اگر آپان سب باتوں کو غلط ہیں تو پھر ان کی تقلید کیوں کرتے ہیں ؟ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں ان کتابوں میں نہیں ہیں تو پھر یہ سب کتابیں تخریج شدہ ہیں ، اصل کتابوں میں موجود ہیں۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 2712

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 73/ ھ= 54/ ھ

     

    یہ نہیں لکھا تھا کہ کتابوں کے نام لکھو، بلکہ اصل کتابیں بغور مطالعہ کرکے متعلقہ تمام عبارت نقل کرنے کو کہا تھا، نالائق خوارج خلیفہٴ برحق سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ کا کفر نعوذ باللہ منہ قرآن کریم سے ثابت کیا کرتے تھے کیا کوئی خارجی اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ لکھ کر قرآن کریم لکھ دے اور بزعم خود یہ سمجھے بیٹھے کہ ہم نے کفر ثابت کردیا تو کیا آپ ایسے خبیث خارجی کی کمر ٹھوک کر شاباشی دینے کو تیار ہیں؟ آپ نے جو عبارات نقل کی ہیں، پہلی ہی عبارت سے معلوم ہوگیا کہ اب تک اصل کتابیں آپ نے نہیں دیکھیں، بلکہ کسی باطل پرست کی کتاب پر آپ نے اعتماد کررکھا ہے، پھر آپ لکھتے ہیں کہ میرے خیال میں ان کے لکھنے والے اسلام سے خارج ہیں، اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جناب کے خیال کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ پہلے اس کو واضح کردیں، باقی اگر آپ کو اپنے متعلق آخرت کی جواب دہی کا احساس ہے اور علمائے دیوبند کے متعلق زبان کھولنا بھی ضروری سمجھتے ہوں تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ ”عباراتِ اکابر“ چھوٹی سی کتاب ہے، اس کا مطالعہ کرلیں اور اس کے بعد مصنف کتاب حضرت مولانا سرفراز صفدر صاحب مدظلہ گوجراں والا پاکستان سے وقت لے لیں اور ان کے سامنے بیٹھ کر اصل کتابوں کو سامنے رکھ کر اچھی طرح سمجھ لیں اس کے بعد زبان کو کھولیں تو بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند