• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 26508

    عنوان: دراصل اکابر ین، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نوراللہ مرقدہ اور حضرت مولانا صفدر امین اکاڑوی نوراللہ مرقدہ، کی رحلت کے بعد ایک مناظر رنمودار ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو اہل سنت و الجماعت اور اکابر ین کا دفاع کرنے والا سمجھتے ہیں۔ انھوں نے عقائد کا کچڑا پکا یا ہو ا ہے اس لیے میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ میرامندرجہ ذیل عقیدہ صحیح ہے؟ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ الله سبحانه وتعالى عرش پر اپنی شان کے لائق مُستوی هوا لیکن وه عرش کا محتاج نہیں ہے ‏(‏الرحمن على العرش استوى‏)‏ طه ۵ ، بغیر مخلوق سے تشبیہ کے کیونکہ ‏(‏ليس كمثله شيء وهو السميع البصير‏)‏ الشورى ۱۱ ، اورمخلوق سے جدا عرش پر مستوی ہونے کے باوجود ہم سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اپنے علم و رحمت سے ہر چیز کو محیط کیا ہوا ہے اور یہ کہ عقیدہ حاظر[ہر جگہ ذاتی طور سے حاظر ہونا ]ناظر غلط ہے۔دراصل عقیدہ حاظرناظر جہمیہ، نجاریہ وغیرہ کا نظریہ ہے۔ لہذا اگر کوئی صحیح عقیدہ حاظر[یہاں حاظر سے مراد بلحاظ علم و قدرت و تصرف ہر جگہ حاظر ہونا ہے ناکہ ذاتی طور سے حاظر ہونا ہے]ناظرہے تووہ یہ ہی ہے۔ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا- الطلاق ۱۲ }اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔{ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا- المومن/غافر ۷ }اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے{ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ- الاعراف ۱۵۶}اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے-{ یہ ساری بات ان آیات میں جمع ہوجاتی ہے: هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ- الحدید ۴ } وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے { أُمِّ سَلَمَہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ فِي قَوْلِهِ عزوجل :( الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى) ، قَالَتْ : الِاسْتِوَاءُ غَيْرُ مَجْهُولٍ، وَالْكَيْفُ غَيْرُ مَعْقُولٍ، وَالْإِقْرَارُ بِهِ إِيمَانٌ، وَالْجُحُودُ بِهِ كُفْرٌ ، وَيُرْوَى هَذَا الْكَلَامُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍّ.( التوحيد لابن منده، حديث نمبر ۸۳۰) "حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا ، اللہ تعالی کے اس ارشاد کے بارے میں" (یعنی خدائے) رحمٰن، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے "فرماتی ہیں : استواءمعلوم ہے{یعنی استواء کا معنی معلوم ہے وہ ہے بلند ہونا }،اور اس کی کیفیت غیرمعقول ہے{یعنی اللہ تعالی کے مستوی ہونے کی کیفیت کا ادراک عقل سے باہر ہے}، اوراس کا اقرار کرنا ایمان ہے{کیو نکہ یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے} اور اس کا انکار کفر ہے" اور اس طرح کی بات امام مالک رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔" اور کیا مندرجہ ذیل آیات مندرجہ بالا نصوص کے خلاف ہیں؟: وَهُوَ الله فِي السموات وَفِي الأرض [ الأنعام۳] أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [الملک ۱۶] وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطًا [النساء ١٢٦] وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ [البقرہ ۱۱۵] وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ [البقرہ ۱۸۶] وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ [واقعه ۸۵] قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ [الشعراء ٦۲] لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا [توبه ٤٠] أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [المجادله ٧] اور جو کتابوں میں جو جہت کی نفی ہے اُس سے مراد مخلوقانہ جہت کی نفی ہے ۔ورنہ یہ بات خود قرآن و حدیث سے حق سبحانه وتعالى کی شان کے لائق ثابت ہیں۔ ہمارےایک بہت اچھے بھائی ہیں اُنھوں نے یہی غلطی کی ، جب اُنھیں لونڈی والی حدیث سنائی گئی جس میں اللہ تعالی کے لئے آسمان [عرش] کی جہت ثابت ہوتی ہے تو اُنھوں نے فرمایا کہ وہ لونڈی تو سعودیہ عربیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مکالمہ کر رہیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ انھوں نےآسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا آسمان پر ،ہمارے بھائی بولے کہ سعودیہ عربیہ کا آسمان ، سوڈان کے آسمان سے تو مختلف ہے اب اگر سوڈان میں آسمان کی طرف اشارہ کریں گے تو مختلف جہت ہو جائے گی اور اللہ تعالی کو آسمان پر ایک سے زائد جگہ تسلیم کرنا پڑجائے گا۔ یہ سب فضول باتیں ہیں۔ یہ سب تو مخلوقانہ جہت کے ساتھ لاحق ہے ۔ اللہ تعالی نے تو ان باتوں کو کر نے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ بس ہمیں حکم ہے کہ اللہ تعالی کے عرش پر مستوی ہونے اور رات کے پہر آسمانِ دنیا پر نزول کرنے وغیرہ وغیرہ پر ایمان لے آئیں اور تفصیلی معانی یا کیفیات متعین کرنے کے در پر نہ ہوں۔ اور جو کچھ قرآن اور صحیح یا متواتر حدیث میں ہے اس پر ایمان رکھنے کو، اس کا عقیدہ رکھنا ہی کہتے ہیں۔چاہے وہ محکمات میں سے ہو یا متشابہات میں سے ان ہی کو دوسروں کو پیش بھی کیا جاتا ہے اور جو آپ سے متشابہ میں جھگڑے ،آپ سے تفصیلی معانی یا کیفیات متعین کرنے کا مطالبہ کرے، وہ زیغ قلب کامریض ہے ۔استواء علی عرش متشابہات میں سے ہے۔ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آَيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ- آل عمران ۷ { وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں} اور جو شہید اسلام مولانایوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے جو اختلاف امت صراط مستقیم میں بات لکھی ہے اُس میں حضرت نوراللہ مرقدہ نے غلطی کی ہے۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے ہی نہیں کہ اللہ تعالی وجود کے لحاظ سے ساری کائنات میں موجود ہیں۔ قالت النجارية ان الباري سبحانه بكل مكان من غير حلول ولا جهة [تبيين الكذب المفترى- ابن عساكر، ص ۱۵۰] دراصل علماءِ متاخرین نےباطل فرقوں سے عوام کا دین بچانے کے لئے لغوی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جائز تاویل کی ہے لیکن اس تاویل کو حتمی طور سے صحیح سجھتے ہو ئے اصل آیت کو رد کرنا صحیح نہیں۔[ ہاتھ سے مراد قدرت ہو تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے {المہند}، استواء = اختیار و اقتدار ] یہاں حق سے مرادہے کہ ---- تاویلی مسلک کو اپنانا، باطل فرقوں سے عوام کا دین بچانے کے لئے ----ناکہ خود تاویل{مثلا ،ہاتھ سے مراد قدرت } کا برحق من اللہ تعالی ہونا-

    سوال: دراصل اکابر ین، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نوراللہ مرقدہ اور حضرت مولانا صفدر امین اکاڑوی نوراللہ مرقدہ، کی رحلت کے بعد ایک مناظر رنمودار ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو اہل سنت و الجماعت اور اکابر ین کا دفاع کرنے والا سمجھتے ہیں۔ انھوں نے عقائد کا کچڑا پکا یا ہو ا ہے اس لیے میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ میرامندرجہ ذیل عقیدہ صحیح ہے؟ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ الله سبحانه وتعالى عرش پر اپنی شان کے لائق مُستوی هوا لیکن وه عرش کا محتاج نہیں ہے ‏(‏الرحمن على العرش استوى‏)‏ طه ۵ ، بغیر مخلوق سے تشبیہ کے کیونکہ ‏(‏ليس كمثله شيء وهو السميع البصير‏)‏ الشورى ۱۱ ، اورمخلوق سے جدا عرش پر مستوی ہونے کے باوجود ہم سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اپنے علم و رحمت سے ہر چیز کو محیط کیا ہوا ہے اور یہ کہ عقیدہ حاظر[ہر جگہ ذاتی طور سے حاظر ہونا ]ناظر غلط ہے۔دراصل عقیدہ حاظرناظر جہمیہ، نجاریہ وغیرہ کا نظریہ ہے۔ لہذا اگر کوئی صحیح عقیدہ حاظر[یہاں حاظر سے مراد بلحاظ علم و قدرت و تصرف ہر جگہ حاظر ہونا ہے ناکہ ذاتی طور سے حاظر ہونا ہے]ناظرہے تووہ یہ ہی ہے۔ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا- الطلاق ۱۲ }اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔{ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا- المومن/غافر ۷ }اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے{ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ- الاعراف ۱۵۶}اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے-{ یہ ساری بات ان آیات میں جمع ہوجاتی ہے: هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ- الحدید ۴ } وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے { أُمِّ سَلَمَہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ فِي قَوْلِهِ عزوجل :( الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى) ، قَالَتْ : الِاسْتِوَاءُ غَيْرُ مَجْهُولٍ، وَالْكَيْفُ غَيْرُ مَعْقُولٍ، وَالْإِقْرَارُ بِهِ إِيمَانٌ، وَالْجُحُودُ بِهِ كُفْرٌ ، وَيُرْوَى هَذَا الْكَلَامُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍّ.( التوحيد لابن منده، حديث نمبر ۸۳۰) "حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا ، اللہ تعالی کے اس ارشاد کے بارے میں" (یعنی خدائے) رحمٰن، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے "فرماتی ہیں : استواءمعلوم ہے{یعنی استواء کا معنی معلوم ہے وہ ہے بلند ہونا }،اور اس کی کیفیت غیرمعقول ہے{یعنی اللہ تعالی کے مستوی ہونے کی کیفیت کا ادراک عقل سے باہر ہے}، اوراس کا اقرار کرنا ایمان ہے{کیو نکہ یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے} اور اس کا انکار کفر ہے" اور اس طرح کی بات امام مالک رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔" اور کیا مندرجہ ذیل آیات مندرجہ بالا نصوص کے خلاف ہیں؟: وَهُوَ الله فِي السموات وَفِي الأرض [ الأنعام۳] أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ [الملک ۱۶] وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطًا [النساء ١٢٦] وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ [البقرہ ۱۱۵] وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ [البقرہ ۱۸۶] وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ [واقعه ۸۵] قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ [الشعراء ٦۲] لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا [توبه ٤٠] أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [المجادله ٧] اور جو کتابوں میں جو جہت کی نفی ہے اُس سے مراد مخلوقانہ جہت کی نفی ہے ۔ورنہ یہ بات خود قرآن و حدیث سے حق سبحانه وتعالى کی شان کے لائق ثابت ہیں۔ ہمارےایک بہت اچھے بھائی ہیں اُنھوں نے یہی غلطی کی ، جب اُنھیں لونڈی والی حدیث سنائی گئی جس میں اللہ تعالی کے لئے آسمان [عرش] کی جہت ثابت ہوتی ہے تو اُنھوں نے فرمایا کہ وہ لونڈی تو سعودیہ عربیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مکالمہ کر رہیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ انھوں نےآسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا آسمان پر ،ہمارے بھائی بولے کہ سعودیہ عربیہ کا آسمان ، سوڈان کے آسمان سے تو مختلف ہے اب اگر سوڈان میں آسمان کی طرف اشارہ کریں گے تو مختلف جہت ہو جائے گی اور اللہ تعالی کو آسمان پر ایک سے زائد جگہ تسلیم کرنا پڑجائے گا۔ یہ سب فضول باتیں ہیں۔ یہ سب تو مخلوقانہ جہت کے ساتھ لاحق ہے ۔ اللہ تعالی نے تو ان باتوں کو کر نے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ بس ہمیں حکم ہے کہ اللہ تعالی کے عرش پر مستوی ہونے اور رات کے پہر آسمانِ دنیا پر نزول کرنے وغیرہ وغیرہ پر ایمان لے آئیں اور تفصیلی معانی یا کیفیات متعین کرنے کے در پر نہ ہوں۔ اور جو کچھ قرآن اور صحیح یا متواتر حدیث میں ہے اس پر ایمان رکھنے کو، اس کا عقیدہ رکھنا ہی کہتے ہیں۔چاہے وہ محکمات میں سے ہو یا متشابہات میں سے ان ہی کو دوسروں کو پیش بھی کیا جاتا ہے اور جو آپ سے متشابہ میں جھگڑے ،آپ سے تفصیلی معانی یا کیفیات متعین کرنے کا مطالبہ کرے، وہ زیغ قلب کامریض ہے ۔استواء علی عرش متشابہات میں سے ہے۔ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آَيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ- آل عمران ۷ { وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں} اور جو شہید اسلام مولانایوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے جو اختلاف امت صراط مستقیم میں بات لکھی ہے اُس میں حضرت نوراللہ مرقدہ نے غلطی کی ہے۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے ہی نہیں کہ اللہ تعالی وجود کے لحاظ سے ساری کائنات میں موجود ہیں۔ قالت النجارية ان الباري سبحانه بكل مكان من غير حلول ولا جهة [تبيين الكذب المفترى- ابن عساكر، ص ۱۵۰] دراصل علماءِ متاخرین نےباطل فرقوں سے عوام کا دین بچانے کے لئے لغوی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جائز تاویل کی ہے لیکن اس تاویل کو حتمی طور سے صحیح سجھتے ہو ئے اصل آیت کو رد کرنا صحیح نہیں۔[ ہاتھ سے مراد قدرت ہو تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے {المہند}، استواء = اختیار و اقتدار ] یہاں حق سے مرادہے کہ ---- تاویلی مسلک کو اپنانا، باطل فرقوں سے عوام کا دین بچانے کے لئے ----ناکہ خود تاویل{مثلا ،ہاتھ سے مراد قدرت } کا برحق من اللہ تعالی ہونا-

    جواب نمبر: 26508

    بسم الله الرحمن الرحيم

    مفصل جواب دوسرے استفتا پر لکھ دیا گیا، یہاں ہم اکابر علمائے دیوبند میں سے اپنے وقت کے متبحر عالم مستند فقیہ ومفتی سابق مفتی دارالعلوم دیوبند ومفتی اعظم پاکستان کی تفسیر معارف القرآن سے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جو ان شاء اللہ حل مسئلہ کے لیے کافی شافی وافی ہوگا: الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی کے تحت ارقام فرماتے ہیں: استواء علی العرش کے متعلق صحیح بے غبار وہ ہی بات ہے جو جمہور سلف صالحین سے منقول ہے کہ اس کی حقیقت وکیفیت کسی کو معلوم نہیں متشابہات میں سے ہے، عقیدہ اتنا رکھنا ہے کہ استواء علی العرش حق ہے اس کی کیفیت اللہ جل شانہ کی شان کے مطابق ہوگی جس کا ادراک دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا۔ (معارف القرآن: ۶/۶۵)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند