• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 22497

    عنوان: کیا بنا وسیلہ کے دعا قبول نہیں ہوتی ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ جب تم اللہ سے دعا کیا کرو تو ڈائریکٹ مت کیا کرو،بلکہ میرے وسیلے سے کیا کرو؟ وسیلہ سے دعا مانگنا شرک ہے۔ سعودی عرب کے علماء نے مجھے بتا یا ہے۔ براہ کرم، آپ بتائیں کہ صحیح کیا ہے ؟ والسلام

    سوال: کیا بنا وسیلہ کے دعا قبول نہیں ہوتی ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ جب تم اللہ سے دعا کیا کرو تو ڈائریکٹ مت کیا کرو،بلکہ میرے وسیلے سے کیا کرو؟ وسیلہ سے دعا مانگنا شرک ہے۔ سعودی عرب کے علماء نے مجھے بتا یا ہے۔ براہ کرم، آپ بتائیں کہ صحیح کیا ہے ؟ والسلام

    جواب نمبر: 22497

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):916=254tl-6/1431

    وسیلہ کے بغیر بھی دعا قبول ہوتی ہے، دعاء قبول ہونے کے لیے وسیلہ کے ساتھ دعاء کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ وسیلہ سے دعاء کرنے کا ثبوت خود حدیث سے ہے، اس لیے وسیلہ سے دعا کرنا بلاشبہ جائز ہے: وأما التوسل بہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ في البرزخ فھو أکثر من أن یحصے أو یدرک باستقصاء وفي کتاب مصباح الظلام في المستغیثین بخیر الأنام للشیخ أبي عبد اللہ بن النعمان طرف من ذلک (المواہب اللدنیة) وسیلہ سے دعا کرنے کو شرک کہنا صحیح نہیں، جن علماء نے وسیلہ سے دعا کو شرک کہا ہے انھوں نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول کو لیا ہے جس کی تردید خود ان کے معاصرین اور دیگر علماء نے کی ہے: قال السبکي: یحسن التوسل بالنبي إلی ربہ ولم ینکرہ أحد من السلف ولا الخلف إلا ابن تیمیہ فابتدع ما لم یقلہ عالم قبلہ (شامي: ۹/۵۶۹/ کتاب الحظر والإباحة، ط: زکریا دیوبند) جہاں تک آپ کے اس جملہ کی بات ہے کہ ”اللہ کے رسول․․ الخ“ یہ بات اس وقت درست ہوتی جب ہم یہ کہتے کہ وسیلہ کے بغیر دعاء جائز ہی نہیں اور دعاء میں وسیلہ ضروری ہے۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند