• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 21826

    عنوان: کیا دعا کے دوران ایسے الفاظ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ”طفیل، مدقہ اور وسیلہ“ استعمال کرنا درست ہے؟

    سوال: کیا دعا کے دوران ایسے الفاظ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ”طفیل، مدقہ اور وسیلہ“ استعمال کرنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 2182601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 378-302/D=4/1435-U جائز ہے، ابن ماجہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا شخص کو یہ دعا تعلیم فرمائی جس میں صاف لفظوں میں وسیلہ کا ذکر ہے: قال في الحدیث فأمرہ أن یتوضأ فیحسن وضوئہ، ویصلی رکعتین، ویدعو بہذا الدعاء: اللہم إنی أسألک، وأتوجہ إلیک بمحمد نبی الرحمة، یا محمد إنی قد توجہت بک إلی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی، اللہم فشفعہ فی . قال أبو إسحاق: ہذا حدیث صحیح (ابن ماجہ: ۹۹) قال في شرحہ إنجاح الحاجة ہذا الحدیث أخرجہ النسائي والترمذي في الدعوات مع اختلاف یسیر قال الترمذي حسن صحیح وصححہ البیہقي اس کے علاوہ اور بھی حدیثیں ہیں جن سے ”توسل، طفیل“ میں دعا کرنے کا ثبوت ملتا ہے خواہ زندگی میں ہو یا وفات کے بعد، تفصیل کے لیے احسن الفتاوی ۱/۳۳۲ کا مطالعہ فرمائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند