• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 1886

    عنوان:

    امکان کذب کیا ہے؟ کیا اللہ تعالی جھوٹ بول سکتے ہیں؟اور کیا بولتے ہیں؟کیوں کہ ہمارے دیوبندی علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی جھوٹ بول سکتے ہیں۔

    سوال:

    امکان کذب کیا ہے؟ کیا اللہ تعالی جھوٹ بول سکتے ہیں؟اور کیا بولتے ہیں؟کیوں کہ ہمارے دیوبندی علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی جھوٹ بول سکتے ہیں۔

    جواب نمبر: 1886

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  530/ن = 519/ن)

     

    قدرت علی الکذب مستلزم صدور نہیں، کذبِ باری تعالیٰ ممکن بالذات یا ممتنع بالغیر ہے کذب چونکہ قبیح ہے اس لیے اس کا صدور باری تعالی سے نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہوگا إن اللہ تعالی منزّہ من أن یتصف بصفة الکذب ولیست في کلامہ شائبة الکذب أبدا کما قال اللہ تعالی: وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلاً (المھند علی المفند: ص۵۵)جو شخص ذاتِ باری سے صدورِ کذب کا قائل ہو وہ کافر ہے، لیکن صدور نہ ہونے سے قدرت کا سلب لازم نہیں آتا، اگر قدرت نہ مانی جائے تو عجز لازم آتا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ کے خلاف ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کذب پر قدرت ضرور ہے کیونکہ اگر قدرت نہ ہو تو وہ صدق پر مجبور ہوگا اور عجز و مجبوری اللہ کی ذات سے بہت بعید ہے۔ غرضیکہ فعل قبیح تو قبیح ہوتا ہے لیکن فعل قبیح پر قدرت قبیح نہیں ہوتی وقوع قبیح ہوتا ہے جو کہ ذاتِ باری سے ممکن نہیں ہے۔ إن أمثال ھذہ الأشیاء مقدور قطعاً لکنہ غیر جائز الوقوع عند أھل السنة والجماعة من الأشاعرة (المھند علی المفند: ص۵۹)

    نوٹ: لہٰذا اللہ تعالیٰ کا کذب پر قادر ہونا۔ مذکورہ بالا تفصیل کی بنا پر بلاشبہ صحیح ہے، مگر عام مسلمانوں کو سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے حیرت، تشویش اور فتنہ میں ڈالنے والی ہے اس لیے اس کو عوام کے سامنے ذکر نہیں کرنا چاہیے۔ عن علي -رضي اللہ عنہ- حدثوا النّاس بما یعرفون أتحبون أن یکذب اللہ ورسولہ (کنز العمال: ۱۰ حدیث نمبر ۲۹۵۱۵)

    نوٹ: اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے فتاویٰ رشیدیہ ص۹۶ پر اس سلسلہ میں مولوی نذیر احمد خاں رامپوری کے اشکالات کا جواب بقلم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی -رحمہ اللہ- ملاحظہ فرمالیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند