• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 1870

    عنوان:

    میراسوال یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ بیماری اورصحت اللہ تعالی کی طرف سے آتی ہے تو کیا بیماریاں ایک بندہ سے دوسروں کو لگتی ہے جیسے فلو (بخار) یا کوئی بھی وائرل انفیکشن؟ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے کوئی باہر نہ آئے اور کوئی اس جگہ نہ جائے ۔ بیشک اللہ تعالی کے ہر کام میں مصلحت ہے ۔ براہ کرم، اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔ 

     

    سوال:

    میراسوال یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ بیماری اورصحت اللہ تعالی کی طرف سے آتی ہے تو کیا بیماریاں ایک بندہ سے دوسروں کو لگتی ہے جیسے فلو (بخار) یا کوئی بھی وائرل انفیکشن؟ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ اگر کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے کوئی باہر نہ آئے اور کوئی اس جگہ نہ جائے ۔ بیشک اللہ تعالی کے ہر کام میں مصلحت ہے ۔ براہ کرم، اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔ 

    جواب نمبر: 1870

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1147/ ب= 1077/ ب

     

    حدیث شریف میں آیا ہے لا عدْویٰ ولاَ طِیَرَةَ في الإسلام یعنی اسلام میں چھوت چھات نہیں ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جائے نہ ہی اسلام میں بدفالی جائز ہے۔ یہی عقیدہ ہرمسلمان کا ہونا چاہیے۔ احتیاطاً اگر کوئی کوڑھی سے یاخارش والے سے بچے تو اس کی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند