• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 179835

    عنوان:

    لمبی مدت كی تاخیر كی وجہ سے قرض كی ادائیگی كا مطالبہ سونےكی قیمت كے حساب سے كرنا؟

    سوال:

    میرے چچا نے میری امی سے ۱۳/۱۴سال پہلے ایک لاکھ روپئے ادھا ر لیے تھے اس وعدہ پر کہ چھ مہینے بعد وہ پورے روپئے واپس کردیں گے، اس وقت ایک لاکھ روپئے کی قیمت بہت تھی، میرے چچا نے چھ مہینے میں وہ واپس نہیں لوٹائے، میری امی نے مانگا تو ایک سال کا وقت مانگا پر ایک سال بعد بھی نہیں دیئے تو آج ۱۲/۱۳سال بعد بھی امی کو وہ پیسہ نہیں ملا، امی وہ پیسہ مانگتی ہیں تو کوئی ڈھنگ کا جواب نہیں دیتے کہ کب دیں گے، تو اب امی کو پیسہ کی ضرورت ہے، اور امی کا کہنا ہے کہ میں انہیں کچھ وقت اور دیتی ہوں پیسہ لوٹانے کے لیے ، اگر تب بھی نہیں دیا تو پھر میں ۱۳/۱۴سال پہلے جو سونے کی قیمت کی تھی اس حساب سے پیسہ واپس مانگوں گی، کیوں کہ ۱۳/۱۴سال پہلے ایک لاکھ روپئے کی قیمت بہت تھی، اب بہت کم ہے، تو کیا چچا سے سونے کی قیمت پر پیسہ مانگ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 179835

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 60-37/H=02/1442

     چچا سے سونے کی قیمت پر رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں بلکہ جتنے روپئے دینے تھے اتنے ہی واپس لینے کی والدہ حقدار ہیں۔ بغیر کسی وجہ شرعی کے ٹال مٹول ادائیگی میں چچا کر رہے ہیں یہ تو اُن کا ظلم ہے پہلی فرصت میں ایک لاکھ روپئے واپس کرنا اُن پر واجب ہے۔ قرض کا یہی حکم ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند