• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 174573

    عنوان: علمِ جفر کی شرعی حیثیت

    سوال: حضرت علمِ جفر کی کیا شرعی حیثیت ہے؟

    جواب نمبر: 17457301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:279-222/L=3/1441

     علم جفر میں ستاروں کو انسانی قسمت پر اثر انداز سمجھا جاتا ہے اور ان چیزوں کو مؤثر حقیقی سمجھنا کفر ہے، علاوہ ازیں ان علوم کے ذریعہ حاصل علم کوبالعموم قطعی ویقینی سمجھا جاتا ہے اور اس کو قطعی ویقینی سمجھنا بھی غلط ہے؛ اس لیے یہ علوم اسلام میں جائز نہیں، مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے جس شخص نے کسی "عراف" (غیب کی باتیں بتلانے والے) کے پاس جاکر کوئی بات دریافت کی تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔

    عن صفیة، عن بعض أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من أتی عرافا فسألہ عن شیء، لم تقبل لہ صلاة أربعین لیلة.(صحیح مسلم،رقم الحدیث: 2230، باب تحریم الکہانة وإتیان الکہان)اور الأشباہ والنظائر میں ہے : تعلم العلم یکون فرض عین، وہو بقدر ما یحتاج إلیہ لدینہ...وحراما، وہو علم الفلسفة والشعبذة والتنجیم والرمل وعلم الطبیعیین والسحر.(الأشباہ والنظائر لابن نجیم ص: 328، الناشر: دار الکتب العلمیة، بیروت - لبنان)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند