• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 168484

    عنوان: کیا شریعت میں اس بات کا حکم ہے کہ شادی شدہ بہن کو وطن کے قانون کے حساب سے حصہ دیا جائے گا؟

    سوال: کیا شریعت میں اس بات کا حکم ہے کہ شادی شدہ بہن کو وطن کے قانون کے حساب سے حصہ دیا جائے گا؟ یوپی ایکٹ میں ہے کہ کاشت کی زمین میں شادی شدہ بیٹی کا حصہ نہیں ہوتاہے اور رہائش اور کاروبار ی جگہ (کمرشل) میں بیٹی کا حصہ ہوتاہے، لہذا، میری ایک بہن ہے جس کی شادی 2000ء میں ہوئی تھی، تو اب میں اپنی بہن کو میری والدہ کی تقریباً 60بیگھہ کاشت کی زمین میں حصہ دوں یا نہیں؟ مزید دعاؤں کی درخواست ہے۔

    جواب نمبر: 168484

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:85-412/sd=6/1440

     شریعت کی رو سے جس طرح سارے ترکہ کے ہر ہر جزء میں سب شرعی ورثاء کا اپنا متعینہ حصہ رہتا ہے ، اسی طرح بہن( بیٹی ) کا بھی ہر طرح کی جائداد میں شرعی حصہ ہوتا ہے ، لہذا کاشت کی زمین میں بھی بیٹی کو اُس کا شرعی حصہ ملے گا، اگر آپ کی والدہ ساٹھ بیگہ زمین چھوڑ کر فوت ہوئی ہیں اور آپ ایک بھائی اور ایک بہن ہیں ، والدہ کے ورثاء میں اُس کے والدین، شوہر اور دوسری کوئی اولاد نہیں ہے ،تو یہ ساری زمین تین حصوں میں تقسیم ہوکر دو حصے بھائی کو اور ایک حصہ بہن کو ملے گا ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند