• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 164446

    عنوان: کیا مردے ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ ہم جو قبر پے جا کے فاتحہ پرھتے ہیں اور جو سلام کرتے ہیں تو کیا مردے ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں اور کیا مردے اپنے گھر والوں کو دیکھتے ہیں اور اگر کسی دوسرے کا سلام کہنے پر اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں اور فاتحہ پرھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور کس طرح بخشا جاتا ہے ؟ اس بارے میں برائے کرم وضاحت فرمائی۔ عین نوازش ہو گی۔ شکریہ

    جواب نمبر: 16444601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1490-1335/L=1/1440

    انسان کے مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق کچھ نہ کچھ بدنِ انسانی کے ساتھ باقی رہتا ہے، اسی وجہ سے حدیث شریف میں ”السلام علیکم ‘ کے لفظ سے مردوں کو سلام کرنے کا حکم فرمایا ہے جہاں تک مسئلہ ہے مردوں کا سلام سن کر جواب دینے کا تو بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ مردے سلام کرنے والے کے سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں نیز اگر آنے والے کے مردے سے دنیا میں تعلقات تھے تو مردہ اس کو پہچان بھی لیتا ہے اس طریقے سے اگر آدمی دوسرے کے ذریعہ سلام کہلواتا ہے تو مردہ اس کو بھی سن کر جواب دیتا ہے رہا مسئلہ فاتحہ پڑھنے کا تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جانے والا یہ دعا پڑھے ”السلام علیکم أہل الدیار من الموٴمنین والمسلمین وإنا إن اللہ لاحقون فسأل اللہ لنا ولکم العافیة (مشکاة شریف: ۱۵۴، باب زیارة القبور)

    پھر قرآن شریف میں سے جو آسان معلوم ہو مثلاً سورہٴ فاتحہ، سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیتیں مفلحون تک، آیت الکرسی، آمن الرسول، سورہٴ یاسین، سورہٴ تبارک الملک، سورہٴ تکاثر، سورہٴ اخلاص، بارہ مرتبہ گیارہ مرتبہ یا سات مرتبہ پڑھ کر بخشے پھر چلا آئے ، وفی شرح اللباب ویقرأ من القرآن ما تیسر لہ من الفاتحة وأول البقرة إلی المفلحون وآیة الکرسی - وآمن الرسول - وسورة یس وتبارک الملک وسورة التکاثر والإخلاص اثنی عشر مرة أو إحدی عشر أو سبعا أو ثلاثا، ثم یقول: اللہم أوصل ثواب ما قرأناہ إلی فلان أو إلیہم․ (رد المحتار: ۲/۱۵۱، ط: زکریا دیوبند) وقال ابن القیم الأحادیث والآثار تدل علی أن الزائر متی جاء علم بہ المزور وسمع سلامہ وأنس بہ وورد علیہ وہذا عام في حق الشہداء وغیرہم وأنہ لا توقیت في ذلک (حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح: ۶۲۰) عن ابن عباس رضي اللہ عنہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من أحد یمر بقبر أخیہ الموٴمن فإن یعرفہ في الدنیا فیسلم علیہ إلا عرفہ (حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح: ۶۲۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند