• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 163972

    عنوان: شوہر کی بعض کفریہ باتوں اور اعمال کا حکم

    سوال: حضرت مفتی صاحب! میرا نام سبیلہ ، عمر ۴۵/ سال ہے۔ میرے شوہر سی آر پی ایف (CRPF) میں ملازم ہیں اور میرے تین بچے ہیں۔ دو بیٹے (۲۴ ، ۲۲/ سال) اور ایک بیٹی (۱۹/ سال) ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے نکاح کو لے کر شک میں رہتی ہوں کہ باقی ہے یا نہیں؟ میرے شوہر کے ایمان کی حالت عجیب ہے وہ اپنی زبان سے اقرار کر چکے ہیں کہ مجھے ڈیوٹی پر پوجا بھی کرنا پڑتا ہے، تھالی گھمانا ، اَگنی میں پھول ڈالنا اور سواہا سواہا بھی بولنا پڑتا ہے۔ یہ بات انہوں نے میرے بچے (ایک لڑکی اور لڑکے ) اور اپنے والد صاحب کے سامنے اقرار کیا تھا ۲۰۱۳ء میں۔ اور ایک بار گھر چھٹی پر تھے تب بھی مندر گئے تھے بلا کسی عذر کے اور مندر کا کھانا کھایا تھا۔ اور دس سال سے کوئی جسمانی تعلقات بھی نہیں ہے۔ اور اکثر لڑائی میں بولتے ہیں کہ تو میری بیوی نہیں ہے، نکل گھر سے، اور خرچے کے پیسے بھی میں اپنے بچوں کو دیتا ہوں، تو میری کچھ نہیں ہے۔ جواب شریعت مطہرہ کے مطابق عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 16397201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1215-1019/N=11/1439

    آپ اس سلسلہ میں اپنے شہر کے مستند ومعتبر مفتیان کرام سے رجوع کریں، وہ آپ دونوں کو بلاکر سارے معاملہ کی مکمل تحقیق اور چھان بین کے بعد آپ کو حکم شرعی سے آگاہ کردیں گے۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند