• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 161001

    عنوان: كیا كسی كو راضی كرنے كے لیے پیر پکڑنا کفر ہے ؟

    سوال: حضرت، کچھ تبلیغ کے لوگ آئے اور میری تشکیل کی، پھر میں نے منع کیا۔ وہ زبردستی کرتے رہے پر میں نے پھر بھی منع کیا۔ وہ ساتھ میں پانچ چھ لوگ لے کر آئے اور ان کے سامنے مجھے جماعت میں جانے کے لئے زبردستی کی پر پھر بھی میں منع کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے یوں کہا، ”کیا میں تمہارے پیر پکڑوں جو تم جماعت میں جاوٴگے“؟ میں نے جواب میں کہا کہ اب تم میرے لئے کفر تو مت کرو۔ ا س کے بعد بھی وہ مجھے زبردستی کرتا رہا۔ میرا سوال یہ ہے کیا میں نے اسے کفر کے بارے میں جو کہا، کیا وہ غلط تھا؟ کیونکہ میں ان کی ضد کی وجہ سے پریشان ہو چکا تھا اور اتنے لوگوں کے سامنے وہ مجھے شرمندہ کررہے تھے۔

    جواب نمبر: 16100101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 835-751/D=8/1439

    صرف پیر پکڑنا کفر نہیں ہے بلکہ جواز کے دائرہ میں ہے لہٰذا جماعت والوں کا کہنا ”تمہارے پیر پکڑوں جو تم جماعت میں جاوٴ گے“ یہ جملہ غلط نہیں تھا محاورہ میں اس طرح بولتے بھی ہیں۔ البتہ ان کا بار بار اصرار کرنا جس سے آدمی کا دل تنگ ہو جائے غلط تھا۔ پھر آپ نے ان کے پیر پکڑنے کو کفر کے درجہ کی بات کہہ دیا اگرچہ وہ کفر نہیں ہے لیکن بعض لوگ سر پیر پر رکھ کر اسے پکڑتے ہیں جو تعبد اور تعظیم کی صورت میں کفر ہے اس لئے اگر آپ نے اس کے شائبہ سے بچانے کے لئے ایسا کہہ دیا تو اس کی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند