• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 156127

    عنوان: اللہ کی کرسی سے کیا مراد ہے؟

    سوال: (۱) ایک غیر مسلم کا سوال ہے کہ رحمت اور برکت کیا ہے؟ کھانا کھانے میں برکت سے کھانا بڑھ جاتا ہے، حضرت، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ عجیب لوگ ہیں؟ (۲) اللہ کی کرسی سے کیا مراد ہے؟ کیا وہ واقعی کرسی ہے؟ جب کہ اللہ تو زمان و مکان سے پاک ہے؟ (۳) قیامت والے دن جب زمین لپیٹ دی جائے گی تو انسان کہاں ہوگا؟ جب کہ کچھ کہتے ہیں کہ سر زمین شام میں میدان حشر لگے گا؟ (۴) حدیث قدسی پڑھنے کے لیے کوئی اچھی کتاب کا نام بتائیں؟ (۵) ہماری قسمت میں دعا مانگنا ہر چیز لکھا جاچکا ہے، تو یہ صحیح ہے کہ شب برأت کو انسان کا مرنا اور رزق لکھا جاتا ہے، کیا وہ لوح محفوظ میں تبدیل کی جاتی ہے؟ (۶) لوح محفوظ کیا ہے؟ (۷) کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو دیکھا ہے بغیر پردہ کے؟ یہ ایک پردہ تھا؟ (۸) جنت میں رات ہو گی؟ دن ہوگا ؟ اگر ہوگا! تو سورج بھی ہوگا؟ (۹) جنات انسان کو دیکھ سکتے ہیں؟ ایسے تو جنات انسانی عورت کی عزت پر حملہ کر سکتے ہیں؟ انہیں یہ اجازت کیوں دی گئی؟

    جواب نمبر: 156127

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:281-18T/H=4/1439

    (۱) کھانے میں برکت سے کھانے کی زیادتی وکثرت مراد نہیں؛ بلکہ مراد یہ ہے کہ کم لوگوں کا کھانا زیادہ کو کافی ہوجاتا ہے اور سب شکم سیر ہوجاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے عن ابن عمر رضي اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: الکافر یأکل فی سعبة أمعاء والموٴمن یأکل في معی واحد (ترمذی: ۲/۴، باب الأطعمة، ط: دیوبند) یا کھانے میں برکت سے مراد یہ ہے کہ اس کھانے سے نیک اعمال کی توفیق ہوتی ہے۔

    (۲) بیشک اللہ تعالیٰ نشست وبرخاست اور حیز ومکان سے پاک ہیں وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ جیسی آیات کو اپنے معاملات پر قیاس نہ کیا جائے، اس کی کیفیت وحقیقت کا ادراک انسانی عقل سے بالاتر ہے؛ البتہ مسند روایات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عرض اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں، ابن کثیر نے بروایت ابوذرغفاری رض نقل کیا ہے کہ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کرسی کیا ہے اور کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی مثال کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں کوئی حلقہٴ انگشتری جیسا ڈال دیا جائے (مستفاد از معارف القرآن ج۱/ ۶۱۵، ط: اشرفیہ دیوبند)

    (۳) میدان حشر سرزمین شام میں قائم ہوگا وہاں کی زمین بڑھادی جائے گی۔ الشام أرض المحشر والمنشر أبو الحسن بن شجاع الربعی في فضائل الشام عن أبی ذر أی البقعة التی یجمع الناس فیہا إلی الحساب وینشرون من قبورہم ثم یساقون إلیہا وخصت بذلک لأنہا الأرض التی قال اللہ فیہا ”بارکنا فیہا للعالمین“ وأکثر الأنبیاء بعثوا منہا فانتشرت فی العالمین شرائعہم فناسب کونہا أرض المحشر (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر للمناوی: ۴/۱۷۱، ط: دار المعرفة للطباعة والنشر بیورت لبنان)

    (۴) (۱) الاحادیث القدسیة الصحیحة (۲) جامع الاحادیث القدسیہ (۳) الصحیح المسند من الاحادیث القدسیہ، کا مطالعہ کرلیں۔

    (۵)لوح محفوظ میں ہرچیز لکھی جاچکی ہے اسی کے مطابق ایک سال کے فیصلے کی فہرست فرشتوں کو دی جاتی ہے یہ لوح محفوظ میں تبدیلی نہیں ہے۔

    (۶) لوح کے لغوی معنی تختی کے آتے ہیں اور لوح محفوظ کیا ہے، اس میں مختلف اقوال ہیں، تفصیل کے لیے روح المعانی، ابن کثیر دیکھیں۔

    (۷) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رب العزت کو بغیر پردہ کے دیکھا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے، چنانچہ حضرت عائشہ حضرت ابوہریرہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اور محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا، اور حضرت عبد اللہ بن عباس ابوذر غفاری عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ایک قول کے مطابق آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو بغیر پردہ کے دیکھا ہے ۔ حضرت حسن بصری اور امام احمد بن حنبل بھی یہی فرماتے تھے اور اکثر علماء کے نزدیک یہی راجح ہے اختلف السلف والخلف ہل رأی نبینا ربّہ لیلة الإسراء فأنکرتہ عائشة وجاء مثلہ عن أبي ہریرة وجماعة وہو المشہور عن ابن مسعود وإلیہ ذہب جماعة من المحدثین والمتکلمین․ وروي عن ابنعباس أنہ رآہ بعینہ ومثلہ عن أبي ذر وکعب والحسن․․․ وکان یحلف علی ذلک وحکی مثلہ عن ابن مسعود وأبي ہریرة وأحمد بن حنبل لکن الحاصل أن الرجاح عند أکثر العلماء أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأی ربہ بعیني راسہ لیلة الإسراء․ (نووي شرح مسلم: ۹۷)

    (۸) جنت میں رات دن چاند رسوج نہیں ہوں گے بس صرف آخرت کا نور ہوگا جس میں اللہ صبح شام رات دن مقرر کریں گے۔

    (۹) شرعاً جنات کو کسی انسانی عورت کی عزت پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند