• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 155944

    عنوان: اللہ كہاں ہے؟ اس سلسلے میں اہل دیوبند کا کیا عقیدہ ہے؟

    سوال: اللہ کہاں ہے ۔اور جیسے کے دیوبند کے علم کتاب(علمی خطبات ص۔168) پر اللہ عرش پر ہے ۔ تو اہل دیوبند کا اس پر کیا عقیدہ ہے؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 15594401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:158-125/N=3/1439

     استواء علی العرش اور دیگر صفات متشابہات کے بارے میں حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتہم (شیخ ا لحدیث وصدر المدرسین دار العلوم دیوبند)نے علمی خطبات (۱: ۱۱۴- ۱۲۵، مطبوعہ: مکتبہ حجاز دیوبند) میں اہل السنة والجماعة کا جو عقیدہ بیان فرمایا ہے، تمام علمائے دیوبند کا یہی عقیدہ ہے؛ بلکہ علمائے دیوبندکا کوئی بھی عقیدہ اہل السنة والجماعة کے خلاف نہیں ہے؛ چناں چہ علمائے دیوبند کے عقائد پر مشتمل کتاب :المھند علی المفند میں استواء علی العرش ودیگر صفات متشابہات کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ بھی یہی ہے،آسانی کے لیے سوال وجواب بعینہ مع ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

    ”السوال الثالث عشر والرابع عشر: ما قولکم في أمثال قولہ تعالی: ”الرحمن علی العرش استوی“، ھل تجیزون إثبات جھة ومکان للباري تعالی أم کیف رأیکم فیہ؟

    الجواب: قولنا في أمثال تلک الآیات إنا نوٴمن بھا ولا یقال: کیف، ونوٴمن بأن اللہ سبحانہ وتعالی متعال ومتنزہ عن صفات المخلوقین وعن سمات النقص والحدوث کما ھو رأي قدمائنا، وأما ما قال المتأخرون من ائمتنا في تلک الآیات یأولونھا بتأویلات صحیحة سائغة فی اللغة والشرع بأنہ یمکن أن یکون المراد من الاستواء الاستیلاء ومن الید القدرة إلی غیر ذلک تقریباً إلی أفھام القاصرین فحق أیضاً عندنا، وأما الجھة والمکان فلا نجوز إثباتھما لہ تعالی ونقول: إنہ تعالی منزہ ومتعال عنھما وعن جمیع سمات الحدوث۔

    ترجمہ:تیرہواں اور چودہواں سوال: کیا کہتے ہو حق تعالی کے اس قسم کے قول میں کہ رحمن عرش پر مستوی ہوا، کیا جائز سمجھتے ہو باری تعالی کے لیے جہت ومکان کا ثابت کرنا یا کیا رائے ہے؟

    جواب:اس قسم کی آیات میں ہمارا مذہب یہ ہے کہ ان پر ایمان لاتے ہیں اور کیفیت سے بحث نہیں کرتے، یقیناً جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی مخلوق کے اوصاف سے منزہ اور نقص وحدوث کی علامات سے مبرا ہے جیسا کہ ہمارے متقدمین کی رائے ہے اور ہمارے متاخرین اماموں نے ان آیات میں جو صحیح اور لغت اور شرع کے اعتبار سے جائز تاویلیں فرمائی ہیں تاکہ کم فہم سمجھ لیں مثلاً یہ کہ ممکن ہے استواء سے مراد غلبہ ہو اور ہاتھ سے مراد قدرت، تو یہ بھی ہمارے نزدیک حق ہے ؛ البتہ جہت ومکان کا اللہ تعالی کے لیے ثابت کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے اور یوں کہتے ہیں کہ وہ جہت ومکانیت اور جملہ علامات حدوث سے منزہ وعالی ہے“۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند