• >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 155599

    عنوان: ہرنماز كا طریقہ بتائیں؟

    سوال: 1 ):سنت موکدہ، سنت غیر موکدہ، فرض، واجب اور نفل پڑھنے کا کیا طریقہ ہے ؟ یعنی تکبیر تحریمہ، ثناء ، سورة فاتحہ، کوئی سورة، رکوع، سجدہ، قعدہ ، میں بیٹھنا، سلام پھیرنا وغیرہ اور کب کیا پڑھنا ہے ؟ دو رکعت والی نماز کیسے پڑھیں اور چار رکعت والی کیسے پڑھیں؟ سنت موکدہ، سنت غیر موکدہ، فرض، واجب، نفل نماز پڑھنے میں کیا فرق ہے ؟ 2 ):جب جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو اللہ اکبر، سمع اللہ لمن حمدہ، السلام علیکم و رحمة اللہ ساتھ میں ہی دل میں کہنا ہے یا نہیں؟ 3 ):جب جماعت کے ساتھ امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو رکوع سے اٹھنے کے بعد ربنا لک الحمد کہنا ہے یا صرف جب اکیلے پڑھ رہے ہیں تب ہی کہنا ہے ؟ 4 ):کیا فرض نماز کے فوراً بعد سنت موکدہ، سنت غیر موکدہ، نفل، واجب پڑھنا صحیح ہے ؟ 5 ):اگر چار رکعت والی نماز ہے تو پہلی رکعت میں سورة اخلاص اور دوسری رکعت میں سورة الناس، پھر اسی طرح سے تیسری رکعت میں سورة اخلاص اور چوتھی رکعت میں سورة الناس پڑھنا جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 155599

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:98-132/sn=3/1439

    (۱) تعلیم الاسلام (موٴلفہ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ) اسی طرح بہشتی زیور میں نماز سے متعلق اس طرح کے تمام مسائل آسان زبان میں لکھے ہیں، آپ ان کتابوں کو حاصل کرکے مطالعہ کرلیں، اگر کسی جگہ سمجھ میں نہ آئے تو کسی عالم کے پاس جاکر سمجھ لیں۔

    (۲، ۳) تکبیر تحریمہ ”اللہ اکبر“ اسی طرح سلام کے کلمات کا مقتدی کے لیے دل سے کہنا کافی نہیں ہے، بلکہ زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، نیز جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے وقت مقتدی ربّنا لک الحمد کہے گا یعنی امام صاحب جب سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر فارغ ہوگا تب، اور جو شخص اکیلے نماز پڑھ رہا ہو وہ سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا لک الحمد دونوں کہے گا اور ان کو بھی زبان سے کہنا چاہیے، صرف دل ہی دل میں کہنا کافی نہیں ہے۔

    (۴) جن نمازوں کے بعد سننِ موٴکدہ ہیں یعنی ظہر، مغرب اور عشاء ان کے بعد سنت موٴکدہ، غیر موٴکدہ اور نوافل وغیرہ پڑھ سکتے ہیں، دیگر نمازوں یعنی عصر اور فجر کے بعد سنن ونوافل پڑھنا جائز نہیں ہے۔

    (۵) پڑھنا جائز ہے؛ لیکن کراہت سے خالی نہیں، ہررکعت میں الگ سورت ملانی چاہیے، نیز یہ بھی واضح رہے کہ چار رکعت والی فرض نمازوں کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورہٴ فاتحہ پر اکتفا کیا جائے گا، کوئی سورت نہیں ملائی جائے گی مسنون یہی ہے۔ چاروں رکعتوں میں سورت صرف نوافل میں ملائی جائے گی، اس سے متعلق مزید تفصیل ”تعلیم الاسلام“ اور بہشتی زیور میں موجود ہے، وہاں ملاحظہ کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند