• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 155078

    عنوان: سیلز مین کو تنخواہ کے ساتھ کمیشن دینا

    سوال: عام رواج ہے کہ سیلز مین کو تنخواہ کے ساتھ کمیشن( کہ اتنا بیچو گے تو اتنا ملے گا) ملتا ہے ۔ مالک کمیشن دینے سے پہلے حساب کتاب کر لیتا ہے کہ اتنا بیچے گا تو اتنا نفع ہوگا اور اُس نفع سے اتنا دے دوں گا، مالک کبھی بھی نقصان کی صورت میں کمیشن نہ دے گا۔ پس ثابت ہوا کہ یہ نفع میں سے شراکت ہے ۔ انعام نہیں ہے ۔ اور سیلز مین بطور آجر بھی کام کررہا ہے یعنی تنخواہ لے رہا ہے ۔ مضاربت کے اُصول میں سے ہے کہ "نفع کے علاوہ کوئی اور منفعت نہ لے گا" کیا یہ کیفیت یہاں لاگو ہو گی کہ نہیں کہ تنخواہ کی ساتھ انعام تو درست ہے لیکن کمیشن نہیں؟

    جواب نمبر: 155078

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:59-165/B=3/1439

    اتنا بیچو گے تو ا تنا ملے گا یہ نامعلوم ہے کیونکہ وہ کتنا بیچے گا یہ معلوم نہیں کیونکہ یہ اس کے قبضہٴ قدرت سے باہر ہے، لہٰذا اس پر کمیشن متعین کرنا دست نہیں، انعام تو وہ کہلاتا ہے جو مُنعم کی مرضی سے دیا جائے، لہٰذا تنخواہ کے علاوہ زیادہ جمع کرنے پر مالک اپنی مرضی سے جس قدر چاہے انعام دے سکتا ہے یہ انعام لینا اور دینا درست رہے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند