• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 154104

    عنوان: ایران میں سے نکلے گا یا عراق سے؟

    سوال: (۱) دجال شام اور عراق کے درمیان نکلے گا جب کہ دوسری حدیث میں ہے کہ دجال افغان (ایران) میں یہودیہ نامی جگہ سے نکلے گا۔ میرا سوال یہ ہے کہ وہ ایران میں سے نکلے گا یا عراق میں سے؟ (۲) ایک اور جگہ لکھا ہوا ہے کہ دجال کوسی نامی جگہ جو دلدلی اور نمکین ہے وہاں سے نکلے گا جب کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دجال عراق سے نکلے گا؟ صحیح کیا ہے؟ (پہلے دونوں سوال کے حوالے آپ کو کتاب ”دجالی فتنہ اور آخری جنگ عظیم“ ، مصنف: ڈاکٹر محمد عیسیٰ داوٴد لتال مصری سے مل سکتا ہے)۔ (۳) قسطنطنیہ (constantinopol)تو فنا ہو چکا ہے، آخری زمانے میں ہونے والی جنگ میں دوبارہ قسطنطنیہ دوبارہ فنا ہوگا؟ (۴) دجال کا فتنہ اتنا بڑا ہوگا کہ موٴمن بھی اگر اس کے پاس جائیں تو وہ بھی اسے خدا مان لیں۔ ہمارے سامنے کوئی تھوڑا سے کرتب (جادو) دکھائے تو لوگ اسے بہت کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ دجال کو اللہ نے کیوں بنایا؟ (۵) تیسری جنگ عظیم رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہوگی، آج کے رومی سارے عیسائی ہیں یا صرف اٹلی کے شہر روم کے لوگ؟ (۶) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں روم کی کیا حدود اربعہ تھی؟ اور آج کونسے ملک ہیں؟

    جواب نمبر: 15410401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1372-1415/SN=1/1439

    (۱، ۲) دجال کہاں سے نکلے گا؟ اس سے متعلق احادیث میں متعدد جگہوں کا ذکر آیا ہے جیسا کہ آپ نے بھی سوال میں ذکر کیا ہے، ان احادیث کی توجیہ میں شراح حدیث نے دو طرح کی باتیں ذکر فرمائی ہیں:

    (الف) منشاء خداوندی اصل جگہ کو ظاہر نہ کرنا ہے؛ اس لیے تعیین کے بجائے متعدد جگہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ قیامت کب آئے گی؟ اس کی پوری تعیین نہیں کی گئی ہے۔

    (ب) پہلے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو متعین جگہ کا علم نہ تھا؛ البتہ اتنا علم تھا کہ ان تینوں جگہوں میں سے کسی ایک جگہ سے نکلے گا؛ اس لیے ان تینوں جگہوں کا ذکر آپ علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا؛ لیکن بعد میں بذریعہ وحی آپ علیہ الصلاة والسلام کو یہ علم ہو گیا تھا کہ جانب مشرق ہی سے نکلے گا؛ اس لیے اخیر میں متیقن طور پر اس کا ذکر کیا۔ تفصیل کے لیے حاشیہ مشکاة نیز مرقاة شرح مشکاة میں خروج دجال سے متعلق احادیث کی تشریحات کا مطالعہ کریں۔

    (۳) احادیث میں فتح قسطنطنیہ کا یوں ذکر آیا ہے کہ ایک مرتبہ قتال کے ذریعے فتح ہوگا اور ایک مرتبہ بغیر قتال کے، قتال کے ذریعے فتح کی بشارت تو سلطان محمد فاتح کے واسطے حاصل ہوگئی؛ البتہ بغیر قتال کے فتح کا واقعہ ہمارے علم کے مطابق ہنوز پیش نہیں آیا، یہ ان شاء اللہ بعد میں پیش آئے گا۔

    (۴) دجال کے نکلنے کا واقعہ لوگوں کے ”ایمان“ کو پرکھنے کے لیے ہوگا، یہ مرحلہ تو سخت ہونا ہی چاہئے۔

    (۵) ان دونوں باتوں کی تحقیق ہمیں نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند