• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 151512

    عنوان: ”شیطان نے کیا چال چلی، آج اللہ کا کلام پیچھے رہ گیا “ کہہ دے تو کیا ایمان میں نقص آجائے گا؟

    سوال: اگر مثلاً زید کی بیوی سے کچھ نااتفاقی ہوئی اور اس دوران : (۱) نماز کا وقت ہوا تو زید نے بیوی سے کہا نماز پڑھ لو وقت نماز چھوٹ جائے گی، تو بیوی نے کچھ اس مفہوم (meaning) کا جواب دیا اپنی زبان میں کہ ”بھلے چھوٹ جائے“ ۔ (۲) بیوی کا کہنا تھا کہ کسی نے کچھ کر دیا ہے ، شیطان پیچھے لگا دئے ہیں (جن وغیرہ) ۔ زید نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا، تھوڑی دیر میں زید نے کہا کہ آج شیطان نے لڑائی کرائی (اس سے مراد جن نہیں بلکہ متعلق شیطان تھا) تو بیوی نے کہا کہ (غالباً طنز کرتے ہوئے) ”شیطان ہوتے ہی کہا ہے“ ۔ (۳) کچھ دیر بعد زید کی بیوی نے کہا کہ ”آج شیطان نے کیا چال چلی، آج اللہ کا کلام پیچھے رہ گیا (نعوذ باللہ)“ پھر اس نے کہا کہ آخر کار تو اللہ کا کلام ہی آگے رہے گا۔ توان تینوں صورتوں میں سے کون کون سی صورت میں ایمان میں نقص آئے گا؟ اور کن کن صورتوں میں تجدید ایمان وتجدید نکاح کی ضرورت ہے؟

    جواب نمبر: 15151201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1235-1251/L=10/1438

    (۱تا۳) پہلے اور دوسرے مباحثہ میں زیادہ سخت بات نہیں ہے؛البتہ تیسرے مباحثہ میں بظاہر اللہ کے کلام اور شیطان کے چال میں معارضہ کی صورت پائی جارہی ہے؛لیکن اس میں بھی اس بات کی گنجائش ہے کہ بیوی نے شوہر پر طنزکرتے ہوئے یہ جملہ کہاہوبیوی کا مقصد کلام اللہ کا استخفاف نہ ہو جیساکہ آئندہ جملہ”آخرکار تو اللہ کا کلام ہی آگے رہے گا “سے واضح ہے؛البتہ احتیاطاً تجدیدِ ایمان وتجدیدِ نکاح کرادینا بہترہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند