• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 151365

    عنوان: عمرہ کی نذر ماننا

    سوال: گذارش ہے کہ ایک آدمی نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں عمرہ کروں گا، جب اُس کا وہ کام ہو گیا تو وہ نذر کا عمرہ کرنے کی بجائے نفلی حج تمتع نذر کے عمرے کی نیت سے کرنے چلا جائے تو کیا اس کا نذر والا عمرہ ادا ہوجائے گا یا الگ سے عمرہ کرنا پڑے گا؟ (2) اگر حج نفلی کرنے چلا جائے اور وہاں جاکر مسجد عائشہ یا جعرانہ سے نذر کی نیت سے عمرہ کرے تو کیا عمرہ ادا ہوجائے گا؟ (3) یا مدینہ منورہ سے واپسی پر جو عمرہ کرے تو اس کو نذر کی نیت سے کرلے تو کیا نذر والا عمرہ ادا ہوجائے گا؟ برائے مہربانی تفصیلاً اور واضح رہنمائی فرمائیں تاکہ نذر والا عمرہ صحیح ادا ہوجائے ؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں ، اور آپ کے علم و معرفت میں ترقی عطا فرمائے ۔

    جواب نمبر: 151365

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1074-1122/M=10/1438

    (۱،۲،۳) صورت مسئولہ میں اگر وہ شخص (ناذر) مذکورہ صورتوں میں نذر والے عمرے کی نیت کرکے عمرہ کرلے تو اس کا نذر کرنے والا عمرہ ادا ہوجائے گا۔ ولو قال: إن برأت فعلي حجة، فبرأ وحج جاز عن حجة الإسلام (ہندیة: ۱/۳۲۷)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند