• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 150991

    عنوان: واستو کی رعایت کے ساتھ گھر تعمیر کرنے کا حکم

    سوال: حضرات مفتیان کرام کی خدمت میں ایک اہم استفتاء کا جواب مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک واستو کے مطابق گھر کی تعمیر نہیں کی جائے گی اس وقت تک گھر میں نحوست رہے گی اور گھر مصیبتوں کے گھیراؤ میں رہے گا ۔اب سوال یہ ہے ایک مسلمان انجینئر اپنے پلاٹ میں جو کہ ہندوؤں ہی کے علاقہ میں واقع ہے واستو کے مطابق گھر کی تعمیر کرکے مکانات فروخت کرے جب کہ اس علاقہ میں غیر مسلم ہی مکان خریدتا ہے اور واستو کے مطابق نہ ہونے کی صورت کوئی نہیں خریدتا تو کیا ایسی صورت میں اس مسلمان انجینئر کے لئے اس طرح واستو کے مطابق پلاننگ سے مکان تعمیر کرکے فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟کہیں اس طرح کرنے سے ایک ہندوانہ عقیدہ کی تائید اور توثیق ہوکر تعاون علی الکفر نہیں ہوگا ؟مسئلہ چونکہ عمومی طور پر پیش آنے والاہے اس لئے مدلل مفصل تحریر فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

    جواب نمبر: 150991

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 724-1606/D=8/1438

    ہندوٴوں کے عقیدہ کی طرح کسی مسلمان کو اس طرح کا یقین رکھنا جائز نہیں اور نہ ہی تعمیری ترجیحات میں اس طرح کے بے سند عقیدہ کو بنیاد بنانا جائز ہے۔

    باقی سہولت، راحت، ضرورت کے مطابق روشنی ہوا وغیرہ امور کے لیے مکان کا نقشہ جس طرح چاہے بنائے شرعاً اس میں کوئی پابندی یا ممانعت نہیں ہے۔ اور ہندووٴں کے خواہش اورمطالبہ کے مطابق بھی نقشہ بنانا اور تعمیر تیار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ خود کوئی ناجائز عمل نہ کرنا پڑے اور نہ ہی ان کی طرح بے بنیاد غلط عقیدہ رکھے۔ہندووٴں کے یہاں واستو اشاستر مکان تعمیر کرنے کا ایک مذہبی طریقہ ہے جس سے سعد ونحس کا عقیدہ وابستہ رکھتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند