• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 150362

    عنوان: کیا نور مجسم کہا جائے تو شرک نہیں؟

    سوال: ہمارا صوبہ تامل ناڈوہے ، ایک مسئلہ کے بارے میں سؤالات کرنا چاہتا ہوں، امید ہے میرے ان اشکالات کا جواب دیجئے گا، ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بشر بھی ہیں نور بھی جنس اور ذات کے لحاظ سے تو آپ بشر ہیں اور صفت و ہدایت کے اعتبار سے آپ نور ہیں، بریلوں کا کہنا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نور ہیں ہم پر مرثیہ محمود الحسن رحمت اللہ اور قصائد قاسمی بیش کرتے ہیں چھپائے جامہ فانوس کیونکر شمع تھی اس نور مجسم کے کفن میں وہی عریانی، بریلویوں کا کہنا یہ ہے کہ اس شعر میں مولوی محمود الحسن صاحب نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو مجسم لکھا ہے کیا نور مجسم کہا جائے تو شرک نہیں؟ اگر الخ قصائد قاسمی: رہا جمال یہ تیرے حجاب بشریت نجانے کون ہے کچھ بھی کسی نے جزء ستار بریلویوں کا کہنا یہ ہے مولوی محمد قاسم صاحب نے اقرار کیاہے کہ مصطفی صلی اللہ پر محض بشریت کا حجاب تھا حقیقة نور تھے ، اس کو مسکت جواب تفصیل دلائل کے ساتھ یا اس متعلق کوئی تفصیل کتاب تو فوری طوری پر جواب دیجئے ۔

    جواب نمبر: 15036201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 242-1058/SN=9/1438

    (الف) ”نور مجسم“ یہ ایک مجازی تعبیر ہے، مراد ایسی شخصیت جس کے علم و فیض سے خلق خدا کی بڑی تعداد نے فائدہ اٹھایا جیسا کہ نور اور روشنی سے عمومی طور پر فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اس میں شرک کی کوئی بات نہیں ہے، بریلویوں کی طرف سے یہ ایک بلا وجہ کا اعتراض ہے۔

    (ب) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے شعر کا مطلب بیان کرتے ہوئے یہ کہنا کہ مولوی محمد قاسم نے اقرار کیا ہے کہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر محض بشریت کا حجاب تھا حقیقتاً نور تھے یہ تو جیہ القول بمالایرضی بہ قائلہ کے قبیل سے ہے، اس شعر میں کہاں یہ ہے کہ آپ علیہ الصلاة والسلام حقیقاً نور تھے؟ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے قول کا مقصد یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے بشر ہونے نیز عام لوگوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے لوگوں سے آپ کے ”کمالات اور خوبیوں“ کا ادراک نہیں ہوسکا، آپ علیہ الصلاة والسلام کے حقیقی کمالات وخوبیوں کو تو پورے طور پر اللہ تبارک وتعالی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند