• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 146347

    عنوان: كیا قبر پر سجدہ كرنے سے نكاح ٹوٹ جاتا ہے؟

    سوال: پچھلے سال میری ایک چچا زاد بہن کا نکاح ہوا۔ اللہ نے ایک بیٹا بھی عطا کیا ہے ۔ میرا چچا زاد بھائی بتا رہا تھا کہ ان کے بہنوئی اور بہنوئی کے گھر کے لوگ غلط رسومات کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ میرے چچا زاد بہنوئی نے ایک مزار پہ جاکے قبر کے سامنے سجدہ کیا۔ گو میری چچا زاد بہن نے آنے سے منع کردیا، اس کے باوجود بہنوئی نے قبر پہ سجدہ کیا۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کیا میری بہن ابھی بھی ان کی زوجیت میں ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 146347

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 234-218/L=3/1438

     

    اگر قبر پر سجدہ کرنا بغرض تحیہ ہو تو اگرچہ یہ فعل حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، مگر اس کی وجہ سے کفر کا حکم عائد نہ ہوگا، اور اگر از راہ عبادت سجدہ کیا جائے تو یہ کفر وشرک ہے، اس سے ایمان باقی نہیں رہتا، جب تک یہ بات واضح نہ ہو جائے کہ آپ کے بہنوئی نے کس نیت سے سجدہ کیا ہے اس وقت تک قطعی طور پر کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا ہے، البتہ آپ پر ضروری ہے کہ اپنے بہنوئی کو سمجھائیں اور سچی پکی توبہ کرائیں اگر توبہ کرلے تو احتیاطاً تجدید نکاح کرادیں، اور اگر توبہ نہ کرے تو بھلائی اس میں ہے کہ طلاق وغیرہ کے ذریعہ معاملہ کو ختم کرادیں، کیونکہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنے میں خود آپ کی بہن کے ایمان کا بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ وکذا مایفعلونہ من تقبیل الأرض بین یدی العلماء والعظماء حرام ․․․․․ إن علی وجہ العبادة والتعظیم کفر وإن علی وجہ التحیة لا۔ (شامی: ۹/۵۵۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند