• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 145967

    عنوان: ویڈیو لیکچر کا کیا حکم ہے؟

    سوال: (۱) مکہ سے براہ راست ٹیلی کاسٹ ہونے والی ویڈیو اور مولانا طارق جمیل کی ویڈیو لیکچر کا کیا حکم ہے؟ (۲) غیر مسلم کے لیے اسلام کا تعارف اور جیسے پڑھ کر وہ اسلام کی طرف آسکے، ایسی کتاب بتادیں۔

    جواب نمبر: 145967

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 102-088/N=2/1438

     (۱): جو ویڈیو پروگرام براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں، ان میں بھی کیمرے کے ذریعے تصویر سازی کا عمل پایا جاتا ہے، کیمرہ پہلے تصاویر لیتا ہے، اس کے بعد وہ تصاویر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ برقی ذرات میں تبدیل ہوکر دوسری طرف ٹرانسفر ہوتی ہیں، اور چوں کہ یہ عمل نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ہوتا ہے؛ اس لیے یہ بات ممکن ہے کہ عام لوگوں کے حق میں تصویر کاکیمرے میں اتارا جانا محسوس نہ کیا جائے (تفصیل کے لیے دیکھیں حضرت مولانا مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب دامت برکاتہم کی کتاب:ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے، ص ۵۹ - ۶۶ ) ۔ پس جب اس میں کیمرے کے ذریعے تصویر کشی وتصویر سازی کا عمل پایا جاتا ہے اور احادیث میں تصویر کشی اور تصویر سازی پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں(دیکھئے: مشکوة شریف، باب التصاویر ص ۳۸۵ - ۳۸۷، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) تو براہ راست ٹیلی کاسٹ ہونے والے ویڈیو پروگرام شرعاً درست نہ ہوں گے ۔

    (۲):حضرت مولانا منظور نعمانیکی کتاب:” قرآن آپ سے کیا کہتا ہے؟“، اسی طرح مولانا کلیم صدیقی صاحب کی کتاب: ”آپ کی امانت آپ کی سیوا میں “ غیر مسلموں کو مطالعے کے لیے دے سکتے ہیں ، یہ دونوں کتابیں اردو کی طرح ہندی زبان میں بھی چھپی ہوئی ہیں، پہلی کتاب کے لیے الفرقان بک ڈپو، نظیر آباد، لکھنو سے اور دوسری کے لیے پھلت سے رابطہ کریں، نیز دفتر پیام انسانیت ندوة العلماء لکھنو سے بھی آپ کو اس سلسلہ میں کافی مواد مل سکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند