• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 145441

    عنوان: اگر کوئی ایسا مرتد جس نے اپنا ارتداد زبان سے ظاہر نہ کیا ہو، تائب ہو جاتا ہے تو کیا اس پر زمانہ ارتداد کے نماز اور روزوں کی قضا لازم ہو گی؟

    سوال: اگر کوئی ایسا مرتد جس نے اپنا ارتداد زبان سے ظاہر نہ کیا ہو، تائب ہو جاتا ہے تو کیا اس پر زمانہ ارتداد کے نماز اور روزوں کی قضا لازم ہو گی؟

    جواب نمبر: 145441

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 016-012/D=1/1438
    شرعاً کسی آدمی کے مرتد ہونے کے لیے شرط ہے کہ اس نے کلمہٴ کفر کا تلفظ کیا ہو یا کوئی کفریہ عمل کیا ہو صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے کلمہٴ کفر کا تلفظ کیا ہو یا کوئی کفریہ عمل کرلیا ہو لیکن کسی کو اپنے ارتداد کی خبر نہ دی ہو اور تائب ہوگیا تو وہ ارتداد کے بعد توبہ کرنے والا کہلائے گا اور زمانہٴ ارتداد کی نماز اور روزوں کی قضا لازم نہ ہوگی اور اگر نہ زبان سے کفریہ کلمہ کا تلفظ کیا اور نہ کوئی کفریہ عمل کیا تو وہ شرعاً مرتد نہیں ہوگا لہٰذا چھوٹی ہوئی نماز اور روزوں کی قضا لازم ہوگی۔ قال في الہندیة: ورکن الردة اجراء کلمة الکفر علی اللسان بعد وجود الإیمان (۲/۲۶۶، ط: اتحاد) وفي الدر: وما أدی منہا (العبادة) فیہ (زمن الردة) یبطل ولا تقضی من العبادات إلا الحج (درمختار مع الشامی: ۶/ ۳۹۷، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند