• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 1081

    عنوان:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کلمات کہے ۔۔۔۔ کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنے اور ایسے کلمات کہنے والا شخص ٹھیک ہے یا غلط؟ اور مندرجہ بالا عبارت کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو شخص امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ کلمات کہے: ?ہم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جلیل القدر صحابہٴ کرام میں شمار نہیں کرتے ہیں کہ افضل اور اولی کو ترک کرنے کے باعث ان جیسے معاملات میں ہم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے معذرت پیش کریں۔?  (یعنی چوں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ، حضرات خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ کی طرح نہ تھے کہ یزید کو اپنا جانشین بنانے پر ان کی طرف سے ہم معذرت پیش کریں)۔ کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھنے اور ایسے کلمات کہنے والا شخص ٹھیک ہے یا غلط؟ اور مندرجہ بالا عبارت کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ وضاحت سے بیان فرمادیں۔

    جواب نمبر: 1081

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  757/ج = 757/ج)

     

    حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کیا، کوئی بھی صحابی حضرات خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مقام و مرتبہ کا نہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سب سے کم مرتبہ کے صحابی کا اللہ کے یہاں وہ مقام و مرتبہ ہے کہ بعد کا بڑے سے بڑا ولی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ کہنا کہ انھوں نے اپنے صاحبزادے یزید کواپنا ولی عہد (جانشین) بناکر خلاف اولیٰ کا ارتکاب کیا ہے اور وہ اس مقام و مرتبہ کے نہیں کہ ہم ان کی طرف سے معذرت پیش کریں، ہمیں زیب نہیں دیتا۔ پھر جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے یزید کو اس لیے ولی عہد نامزد نہیں کیا کہ وہ ان کا بیٹا تھا، بلکہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اسے خلافت کا اہل سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے اپنے علم و اجتہاد میں خلافِ اولیٰ کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔                                         


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند