• متفرقات >> سیر وجہاد

    سوال نمبر: 600345

    عنوان:

    افضل جہاد کیا ہے ؟

    سوال:

    افضل جہاد کیا ہے ؟ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنا گناہ سے بچاکر رکھنا یہ سب سے افضل جہاد کیا یہ بات صحیح ہے ؟

    جواب نمبر: 600345

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:103-33T/sn=2/1442

     افضل جہاد لوگوں کے احوال اور زمانے کی ضرورت کے اعتبار سے مختلف ہوتاہے ،چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف مواقع پر افضل جہاد مختلف چیزوں کو قرار دیا ہے ، ذیل میں روایتیں ملاحظہ کریں :

    عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أم المؤمنین رضی اللہ عنہا، أنہا قالت: یا رسول اللہ، نری الجہاد أفضل العمل، أفلا نجاہد؟ قال: لا، لکن أفضل الجہاد حج مبرور(صحیح البخاری 2/ 133، رقم:1520]

    عن أبی سعید الخدری، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أفضل الجہاد کلمة عدل عند سلطان جائر، أو أمیر جائر․ (سنن أبی داود 4/ 124،رقم:4344]

    19459 - حدثنا أبو أسامة، عن عبد الرحمن بن یزید بن جابر، قال نا خالد بن معدان، قال: سمعت أبا أمامة، وجبیر بن نفیر، یقولان: یأتی علی الناس زمان أفضل الجہاد الرباط , فقلت: وما ذلک؟ فقال: إذا أطاط الغزو وکثرت الغرائم واستحلت الغنائم فأفضل الجہاد یومئذ الرباط․ (مصنف ابن أبی شیبة 4/ 219،رقم: 19459)

    عن أبی الزبیر، أنہ قال: سألت جابرا، أقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: " أفضل الجہاد من عقر جوادہ، وأریق دمہ "؟ فقال جابر: نعم․ (مسند أحمد ط الرسالة 23/ 68،رقم:14727]

    .....أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان فی الغزو فقال: لا یتخلفن عنی إلا مصعب أو مضعف . وکانت أم أبی ہریرة عمیاء فأراد الخروج مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتت أمہ إلی رسول اللہ فذکرت لہ أنہا لا تستطیع أن تخرج إلی مرفقہا ولا تقوم عنہ إلا بہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لأبی ہریرة (ص:285]: " إنک لخارج وتارک عجوزا کبیرا لا تستطیع تخرج إلی مرفقہا ولا تقوم عنہ إلا بک، وتری أنک لست فی جہاد، إذا کنت عندہا فإنک فی أفضل الجہاد، ولو أنک خرجت وطفق یشیر بیدہ إلی مشارق الأرض ومغاربہا ویقول: لو خرجت ہا ہنا وہی علیک ساخطة لکنت من أہل النار ". فجلس أبوہریرة․ (مسند الرویانی 2/ 284، رقم:1214]

    عن أبی سعید الخدری قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أفضل الجہاد عند اللہ یوم القیامة الذین یلتقون فی الصف فلا یلفتون وجوہہم حتی یقتلوا، أولئک یتلبطون فی الغرف العلی من الجنة، ینظر إلیہم ربک، إن ربک إذا ضحک إلی قوم فلا حساب علیہم.....لم یرو ہذا الحدیث عن الأوزاعی إلا ابن المبارک، ولا عن ابن المبارک إلا عنبسة، تفرد بہ: سعید بن یحیی "[المعجم الأوسط 4/ 256،رقم:4131]

    عن أم أنس بن مالک، أنہا قالت: یا رسول اللہ، أوصنی قال: اہجری المعاصی فإنہا أفضل الہجرة، وحافظی علی الفرائض فإنہا أفضل الجہاد، وأکثری ذکر اللہ فإنک لا تأتین اللہ بشیء أحب إلیہ من کثرة ذکرہ......لا یروی ہذا الحدیث عن أم أنس الأنصاریة، ولیست بأم سلیم أم أنس بن مالک، ہذہ امرأة أخری من الأنصار لم یرو ہذا الحدیث إلا بہذا الإسناد، تفرد بہ: ہشام بن عمار․ (المعجم الأوسط 7/ 51،رقم:6822]

    جس حدیث میں اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کو افضل ”جہاد“ قرار دیا گیا ہے ، اس کا مطلب ملاعلی قاری نے یہ بتلایا ہے کہ اصل جہاد (یعنی کفار ومشرکین کے ساتھ اپنے مال وجان سے لڑنے ) کا یہ موقوف علیہ ہے ، اس کے بغیر آدمی اصل جہاد کی ہمت نہیں کرسکتا ۔

    وعن عبد اللہ بن حبشی: أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سئل أی الأعمال أفضل؟ قال: طول القیام قیل: فأی الصدقة أفضل؟ قال: جہد المقل قیل: فأی الہجرة أفضل؟ قال: من ہجر ما حرم اللہ علیہ قیل: فأی الجہاد أفضل؟ قال: من جاہد المشرکین بمالہ ونفسہ . قیل: فأی القتل أشرف؟ قال: من أہریق دمہ وعقر جوادہ .

    وفی المرقاة:

    وکذا قولہ (قیل: فأی الجہاد أفضل؟ قال: من جاہد المشرکین بمالہ ونفسہ) : ولتوقف ہذا الجہاد علی مجاہدة النفس ورد: أفضل الجہاد أن یجاہد الرجل نفسہ وہواہ، رواہ ابن النجاری، عن أبی ذر،ولہذا سمی جہادا أکبر، ولا ینافیہ ما ورد: أفضل الجہاد کلمة حق عند سلطان جائر علی ما رواہ أحمد وغیرہ ; لأنہ أشق علی النفس، أو الأفضلیة إضافیة، أو التقدیر من أفضل الجہاد․ (مشکاة المصابیح مع المشکاة، 6/ 2482،رقم: 3833)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند