• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 7438

    عنوان:

    کیا ہم انڈیا میں سود پر مبنی لون لے کرکے مکان حاصل کرسکتے ہیں کیوں کہ ہم اس کو براہ راست خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اورابھی تک کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ کیا شریعت میں مکان ضرورت تصور کیاجاتاہے یا عام حاجت میں آتا ہے؟

    سوال:

    کیا ہم انڈیا میں سود پر مبنی لون لے کرکے مکان حاصل کرسکتے ہیں کیوں کہ ہم اس کو براہ راست خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اورابھی تک کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ کیا شریعت میں مکان ضرورت تصور کیاجاتاہے یا عام حاجت میں آتا ہے؟

    جواب نمبر: 7438

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1484=1399/ د

     

    کرایہ کے مکان میں رہنے سے گذر بسر ٹھیک ہورہی ہے، تو فراغت مالی کاانتظار کریں، اور بینک سے لون لینے سے احتراز کریں۔ سودی لین دین حرام ہے، سود کا ایک روپیہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی سخت بتلایا گیا ہے۔ (الحدیث) اموال و جائیداد میں سود کی شمولیت سے بے برکتی پیدا ہوتی ہے۔

    اگر کرایہ کے مکان سے ناقابل برداشت مشقت کا سامنا کرنا پڑرہا ہو تو مکان ضروریات اصلیہ ہی سے ہونے کی وجہ سے بوقت حاجت بقدر ضرورت سود پر قرض لینے کی گنجائش ہے ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح الأشباہ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند