• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 68900

    عنوان: لون لینا موجب لعنت ہے

    سوال: الحمد للہ! سوال نمبر 65008 کا جواب موصول ہوا کچھ تفصیلات اس کی یہ ہے کہ اسکول اسلامی طریقے پر چل رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اسکول کی کوئی جگہ نہیں ہے، اس وقت جگہ کی ضرورت ہے، اس اسکول کے دس افراد ذمہ دار ہیں، یہ ان لوگوں کی امداد اور اسکول کی فیس کے ذریعہ چل رہا ہے، پھر بھی حالات ہیں، جگہ والوں کا لیز بھی ختم ہوگیا ہے، مزید سال کے لیے ہم نے درخواست کی ،لیکن اس وقت اپنے کو جگہ خریدنا ضروری ہے ورنہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، اور اتنی رقم ہمارے پاس نہیں ہے اور کوئی دوسرا آدمی کوئی حصہ لینے کے لیے بھی آمادہ نہیں ہے۔ کیا ایسی صورت میں لون لیا جا سکتا ہے؟

    جواب نمبر: 68900

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1143-1117/M=12/1437 لون لینے میں سود دینے کا ارتکاب پایا جاتا ہے جو موجب لعنت ہے صورت مسئولہ میں جب اسکول ذمہ دار افراد کے تعاون او ربچوں کی فیس سے چل رہا ہے تو سودی لون لینے کا ارتکاب نہ کریں ، اسی میں سلامتی ہے اسکول کے لیے اپنی جگہ خریدنے کی ضرورت ہے اور اتنی رقم پاس میں نہیں ہے تو رقم کا نظم ہونے تک صبرو انتظار سے کام لیں، اور اللہ سے دعا بھی کریں ان شاء اللہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند