• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 67601

    عنوان: سود کے پیسوں سے ہاؤس ٹیکس اور بجلی بل بھر سکتاہوں؟

    سوال: براہ کرم، جواب دیں کہ کیا میں سود کے پیسوں سے ہاؤس ٹیکس اور بجلی بل بھر سکتاہوں؟

    جواب نمبر: 67601

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1054-1076/N=10/1437 ہاوٴس ٹیکس، بجلی بل شرعاً جائز ٹیکس ہیں، غیر شرعی ٹیکس نہیں ہیں ؛ اس لیے سرکاری بینک کا سود ہاوٴس ٹیکس اور بجلی بل میں بھرنا درست نہیں، یہ سودی رقم ذاتی استعمال میں لانے کے حکم ہے، البتہ انکم ٹیکس، سیل ٹیکس اور ویٹ ٹیکس وغیرہ میں بھر سکتے ہیں؛ کیوں کہ یہ سب ناجائز وغیر شرعی ٹیکس ہیں۔ اورجائز اور ناجائز ٹیکس کا معیار یہ ہے کہ جس ٹیکس میں ٹیکس دینے والے کو کوئی قابل ذکر نفع حاصل ہوتا ہے وہ جائز ٹیکس ہے اور جس میں ٹیکس دینے والے کو کوئی قابل ذکر نفع حاصل نہیں ہوتا وہ ناجائز ٹیکس ہے، اور ہاوٴس ٹیکس اور بجلی بل جائز ٹیکس اس لیے ہیں کہ نگر پالیکا محلہ میں گلیوں کی صفائی اور پانی سپلائی وغیرہ کا کام کرتا ہے اور سرکار بجلی کے عوض بجلی کا بل وصول کرتی ہے ، ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ (شامی ۹: ۵۵۳، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند) ، قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقہائنا کالہدایة وغیرہا: أن من ملک بملک خبیث، ولم یمکنہ الرد إلی المالک، فسبیلہ التصدقُ علی الفقراء… …، قال: والظاھر إن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغ ذمتہ، ولا یرجو بہ المثوبة (معارف السنن، أبواب الطہارة، باب ما جاء: لا تقبل صلاة بغیر طہور، ۱: ۳۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) ۔ ویبرأ بردھا ولو بغیر علم المالک، فی البزازیة: غصب دراہم إنسان من کیسہ، ثم ردہا فیہ بلا علمہ برئ، وکذا لو سلمہ إلیہ بجہة أخریٰ کہبة وإیداع وشراء، وکذا لو أطعمہ فأکلہ، …، زیلعي (در مختار مع شامی ۹: ۲۶۶، ۲۶۷) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند