• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 66601

    عنوان: کیا ٹیکس سے بچنے کے لیے میں کوئی انشورنس پالیسی لے سکتاہوں؟ جیسے ایل آئی سی یا کوئی دوسری پالیسی ؟

    سوال: میں ایک پرائیویٹ سوفٹ وئیر کمپنی کے لیے کام کررہاہوں، مجھے اس سال کا ٹیکس اداکرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ :(۱) کیا ٹیکس سے بچنے کے لیے میں کوئی انشورنس پالیسی لے سکتاہوں؟ جیسے ایل آئی سی یا کوئی دوسری پالیسی ؟ (۲) مجھے کمپنی کی جانب سے اپنے اور اپنے والدین کے علاج کے لئے میڈیکل انشورنس سے پانچ لاکھ روپئے کا فائدہ ملا ہے تو کیا شریعت کی روشنی میں یہ فائدہ لے سکتاہوں؟کیا اس کی اجازت ہے؟ اس وقت میڈیکل انشورنس کے لیے میری تنخواہ سے کوئی پیسہ نہیں کٹتاہے ۔ اگر ہر مہینہ پانچ سو روپئے وضع ہوں تو کیا اس کا استعمال کرنا جائز ہے؟یہ اگلے سے وضع ہوگا۔ (۳) کیا میں کریڈٹ کارڈ استعمال کرسکتاہوں؟ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 66601

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1510-1447/L=01/1438

     (۱) ایل آئی سی کی پالیسی سود اور قمار پر مبنی ہوتی ہے اور سود و قمار دونوں بنصّ قطعی حرام ہیں؛ اس لئے اصلاً ایل آئی سی کی پالیسی لینا جائز نہیں ہے تاہم اگر انکم ٹیکس کی شکل میں ایک بڑی رقم چلی جاتی ہو تو ایسی مجبوری میں انکم ٹیکس سے بچنے کی غرض سے لائف انشورنس کرانے کی گنجائش ہوگی؛ البتہ تمام قسطیں جمع ہوجانے کے بعد جب ساری رقم وصول ہو جائے تو صرف جمع کردہ اصل رقم اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہوگی اور بقیہ رقم کا بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ہوگا۔

    (۲) میڈیکل انشورنس سود اور قمار پر مبنی ہے اس لئے اگر یہ پالیسی لی جائے اور تنخواہ سے رقم وضع ہوتو اپنے اختیار سے اس طرح کی پالیسی لینا جائز نہیں؛ البتہ اگر تنخواہ سے رقم وضع نہ ہو اور کمپنی خود ہی یہ سہولت دے تو اس سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہوگی۔

    (۳) کریڈٹ کارڈ کا استعمال درست ہے بشرطیکہ رقم اکاوٴنٹ میں موجود ہو کہ کارڈ جاری کرنے والا اپنا قرض وہاں سے وصول کرلے یا اگر اکاوٴنٹ میں رقم موجود نہ ہوتو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ سود چڑھنے سے پہلے پہلے قرض ادا کردی جائے تاکہ سود کا ارتکاب لازم نہ آے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند