• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 64361

    عنوان: کیا گاڑی کا انشورنس جائز ہے ؟

    سوال: کیا گاڑی کا انشورنس جائز ہے یا نہیں جب کہ ملکی قانون جبر نہ کرتا ہو لینے پر مگر کبیر نقصان سے حفاظت کے لئے کے ہر مہینے یا ہفتے اتنا پیسہ دوگے احتمالی نقصان پر اگر نقصان ہوا تو تمہارا نفع اور اسکا نقصان اور اگر نہ ہوا انشورنس والوں کا نفع ہے مگر آپ کے پیسے سے زیادہ خرابی ہو یا کم وہ انشورنس والے بھریں گے ۔

    جواب نمبر: 64361

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 605-601/N=7/1437 انشورنس جان کا ہو یا گاڑی کا ،اس میں سود اور قمار(جوا ) دونوں پائے جاتے ہیں، اور یہ دونوں چیزیں مذہب اسلام میں قطعی طور پر حرام وناجائز ہیں ؛ اس لیے اگر کسی ملک میں گاڑی سڑک پر لانے کے لیے گاڑی کا انشورنس کرانا قانونی طور پر لازم وضروری نہ ہو تو لائف انشورنس کی طرح گاڑی کا انشورنس بھی حرام وناجائز ہوگا ، قال اللہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة(سورہ بقرہ،آیت:۲۷۵)،یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون(سورہ مائدہ،آیت:۹۰)،وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر(مسند احمد ۲: ۳۵۱، حدیث نمبر: ۶۵۱۱)،﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة(معالم التنزیل ۲: ۵۰)،لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخریٰ۔ وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص(شامی،کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء،فصل في البیع ۹:۵۷۷ ، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند