• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 63309

    عنوان: میں خود کا اپنا گھر لینا چاہتا ہوں جسکے لیے کم از کم ۰۵ لاکھ سے ۰۶ لاکھ لگتے ہیں اور میرے پاس پیسے موجود نہیں ہیں مگر کرایا بھی بہت زیادہ ہے تو کیا میں ضرورت کے تہت لون پر گھر لے سکتا ہوں؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین اور مفتیان شرع متین مسلئہ ذیل کے بارے میں؛ ۱. میں ممبئی شہر میں رہتا ہوں وہ بھی کرائے کے مکان میں اور اب میں خود کا اپنا گھر لینا چاہتا ہوں جسکے لیے کم از کم ۰۵ لاکھ سے ۰۶ لاکھ لگتے ہیں اور میرے پاس پیسے موجود بھی ہیں لیکن اگر میں کیش پر لیتا ہوں تو انکم ٹیکس والوں ریڈ پڑ سکتی ہے جس سے بچنے کی شکل یہ ہے کہ لون پر گھر لوں تو اس سے میں انکم ٹیکس سے بچ سکتا ہوں, کیا یہ میرے لیے جائز ہے ؟ ۲. میں ممبی شہر میں رہتا ہوں وہ بھی کراے کے مکان میں اور اب میں خود کا اپنا گھر لینا چاہتا ہوں جسکے لیے کم از کم ۰۵ لاکھ سے ۰۶ لاکھ لگتے ہیں اور میرے پاس پیسے موجود نہیں ہیں مگر کرایا بھی بہت زیادہ ہے تو کیا میں ضرورت کے تہت لون پر گھر لے سکتا ہوں؟ ۳. مجھے ایک گاڑی کی ضرورت ہے جو تقریباً ۰۱ لاکھ کی آتی ہے اور میرے پاس پیسہ موجود بھی ہیں لیکن اگر میں گاڑی کیش پر لیتا ہوں تو انکم ٹیکس والوں کی ریڈ پڑ سکتی ہے تو کیا اس سے بچنے کے لیے میں گاڑی لون پر لے سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 63309

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 336-316/Sn=4/1437-U (۱) جس طرح سود لینا گناہِ عظیم اور ناجائز ہے اسی طرح سود دینا بھی ناجائز ہے، اس لیے ہوم لون لینا اپنے اصل کے اعتبار سے بالکل ناجائز ہے، انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے بھی کوئی مباح تدبیر تلاش کرنی چاہیے؛ البتہ اگر کوئی مباح تدبیر کارگر نہ ہو تو چوں کہ انکم ٹیکس ایک ناجائز اور ظالمانہ ٹیکس ہے تو دفعِ ظلم اور اپنی گاڑھی کمائی کو بچانے کے لیے ”ہوم لون“ لینے کی گنجائش ہے۔ (۲) اگر آپ کے پاس اتنی آمدنی ہے جس سے کرایہ سمیت گھر کے ضروری اخراجات پورے ہوجاتے ہیں تو صورتِ مسئولہ میں ”لون“ لینے کی گنجائش نہیں ہے، یہاں دفعِ ظلم کی شکل نہیں ہے؛ اس لیے ناجائز کام کے ارتکاب کی کوئی ”معتبر مجبوری“ نہیں ہے۔ (۳) اگر انکم ٹیکس سے بچنے کی کوئی جائز تدبیر نہ ہو تو ”لون“ پر گاڑی لینے کی گنجائش ہے۔ (۴) یہاں پر بھی دفع ظلم کی شکل نہیں ہے، نیز اپنی ذاتی گاڑی نہ ہونا ایسی شدید مجبوری نہیں ہے جس کی بنیاد پر ایک ”ناجائز کام“ کرنے کی اجازت ہوجائے، ذاتی گاڑی کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے، بے شمار لوگ گزارتے بھی ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند